حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور میں کئی مواقع پر ماحول کشیدہ رہا اور فریقین کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ذرائع کے مطابق حکومتی ٹیم نے اپوزیشن پر واضح کیا کہ اسلام آباد پر چڑھائی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اپوزیشن سے لانگ مارچ ملتوی یا منسوخ کرنے کا باضابطہ مطالبہ کیا۔ حکومت نے عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کی یقین دہانی بھی کرائی۔حکومتی ٹیم نے مؤقف اختیار کیا کہ لانگ مارچ، دھمکیاں دینا اور اڈیالہ جیل پر حملے کی بات کرنا درست نہیں، جبکہ مذاکرات میں لچک کا مظاہرہ دونوں فریقوں کو کرنا ہوگا۔مذاکرات کے آغاز پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور تحریک طالبان پاکستان کے حملوں کا معاملہ اٹھاتے ہوئے اسے صوبائی حکومت کی ناکامی قرار دیا۔علامہ راجہ ناصر عباس نے حکومتی مؤقف مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن دہشت گردی نہیں بلکہ سیاسی معاملات پر بات کرنے آئی ہے۔ انہوں نے ارکان اسمبلی کی گرفتاریوں اور بانی چیئرمین سے ملاقاتوں پر پابندی سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔ذرائع کے مطابق علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ تحریک انصاف کے رہنما اپنی قیادت کی اجازت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے اور بانی چیئرمین سے ملاقات کے بغیر مذاکرات میں کسی حتمی پیش رفت کی توقع نہیں کی جا سکتی۔شیری رحمٰن نے سوال کیا کہ بانی چیئرمین سے ملاقات کے بعد مسائل حل ہونے کی کیا ضمانت ہے؟ اس پر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ وہ اس کی ذمہ داری لیتے ہیں اور ملاقات ہونے سے حالات بہتر ہوں گے۔دوسرے دور میں عدالتی معاملات پر رانا ثناء اللہ اور علامہ راجہ ناصر عباس کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جس پر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے مداخلت کرتے ہوئے فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی۔حکومت کی جانب سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عدالتیں اپنا کام کر رہی ہیں اور لانگ مارچ سے متعلق عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں نے مذاکرات میں سامنے آنے والی تجاویز پر اپنے دیگر قائدین کو بھی اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔









