نیویارک (آواز نیوز)احتجاج اور ممدانی کی جانب سے گرفتاری کے خدشے کے پیشِ نظر نیتن یاہو نے نیویارک کا دورہ مختصرکر دیا۔، نیتن یاہو جمعرات کی صبح امریکہ پہنچیں گے، دوپہر 2 بجے جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے اور اسی شام اسرائیل واپس روانہ ہو جائیں گے۔ متوقع احتجاج کے باعث نیتن یاہو نیویارک میں صرف چند گھنٹے گزاریں گے؛ اسرائیلی میڈیا نے میئر زہران مامدانی اور آئی سی سی وارنٹ سے متعلق خدشات کا حوالہ دیا ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے لیے اپنے نیویارک کے دورے کو غیر معمولی طور پر مختصر کر دیا ہے۔ اس فیصلے کی وجوہات میں متوقع احتجاج، سخت سکیورٹی انتظامات اور میئر زہران مامدانی کے ساتھ کشیدگی شامل ہیں، جو نیتن یاہو کی گرفتاری کے لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ کا معاملہ اٹھا رہے ہیں۔اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، نیتن یاہو جمعرات کی صبح امریکہ پہنچیں گے، نیویارک کے وقت کے مطابق دوپہر 2 بجے جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے اور اسی شام اسرائیل واپس روانہ ہو جائیں گے۔توقع ہے کہ اسرائیلی رہنما امریکہ میں ایک رات بھی نہیں گزاریں گے اور اپنے اس دورے کو، جو پہلے طویل ہونا تھا، محض چند گھنٹوں تک محدود کر دیں گے۔ انہوں نے ارب پتی ایلون مسک سے ملاقات کے لیے ٹیکساس میں طے شدہ پڑاو¿ بھی منسوخ کر دیا ہے اور وہ اپنے سرکاری طیارے “وِنگ آف زائن” میں اسرائیلی صحافیوں کو بھی ساتھ نہیں لے جائیں گے۔اسرائیلی میڈیا نے اس غیر معمولی مختصر دورے کی وجوہات میں متوقع احتجاج اور سکیورٹی خدشات کا ذکر کیا ہے۔’وائی نیٹ’ کے مطابق، توقع ہے کہ نیتن یاہو کا طیارہ نیویارک کے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترنے کے بجائے پڑوسی ریاست نیو جرسی میں اتریں گے۔اس خبر رساں ادارے نے ان انتظامات کا تعلق جزوی طور پر میئر مامدانی کے ساتھ کشیدگی سے جوڑا ہے، جنہوں نے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ آئی سی سی وارنٹ کی بنیاد پر نیتن یاہو کو گرفتار کیا جائے۔تاہم، دیگر اسرائیلی رپورٹس میں جے ایف کے ایئرپورٹ پر نہ اترنے کے فیصلے کی وجہ نیتن یاہو کے طیارے سے متعلق لاجسٹک اور سکیورٹی امور کو قرار دیا گیا ہے۔









