واشنگٹن ( آواز نیوز ) امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ایک سابق افسر، جنھیں حکام کی جانب سے ان کے گھر سے سینکڑوں سونے کی اینٹیں برآمد ہونے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا، نے جعلی معاہدوں اور جائیداد کے سودوں پر مبنی 20 کروڑ ڈالر (15 کروڑ 10 لاکھ پاؤنڈ) کے ایک وسیع فراڈ کے ذریعے امریکی حکومت کو دھوکا دینے کا اعتراف کر لیا ہے۔
49 سالہ ڈیوڈ رش کو طے شدہ اعترافی معاہدے کے تحت حکومت کو رقم واپس کرنا ہو گی اور جرم سے منسلک لگژری جائیدادیں، گاڑیاں، گھڑیاں اور دیگر اثاثے ضبط کرانے ہوں گے۔
رش نے یہ اعتراف بھی کیا کہ انھوں نے ایک غیر ملکی حکومت کو خفیہ معلومات فراہم کیں، جس سے قومی سلامتی کو ’شدید نقصان‘ پہنچ سکتا تھا۔
استغاثہ نے اعترافی معاہدے کی تفصیلات پر مبنی عدالتی دستاویز میں کہا: ’ملزم جرم قبول کرے گا کیونکہ وہ درحقیقت عائد کردہ جرم کا مرتکب ہے۔‘
بی بی سی نے رش کے وکیل سے رابطہ کیا، تاہم انھوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
رش پر ابتدا میں سرکاری فنڈز کی چوری کا الزام عائد کیا گیا تھا، لیکن اب انھوں نے وائر فراڈ کے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔
ان کی گرفتاری کے وقت ان کے گھر پر چھاپے کے دوران 298 سونے کی اینٹیں برآمد ہوئی تھیں جو انھوں نے مبینہ طور پر ’کام سے متعلق اخراجات‘ کے لیے حاصل کی تھیں۔
معاہدے سے متعلق عدالتی دستاویزات میں نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق رش نے ایک ’خفیہ ذریعے‘ کے وجود اور تفصیلات ایک غیر ملکی اہلکار کو بتائی تھیں۔









