کرسٹی نیوم، پام بوبڈی، اور لوری شاویز کے بعد ٹرمپ کابینہ کی ایک اور اعلی خاتون افسر تلسی گیبرڈ کو بھی فارغ کیا جارہا ہے

واشنگٹن ( رپورٹ : محمد فرخ) ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نیوم، اٹارنی جنرل پام بونڈی اور حال ہی میں لیبر سیکریٹری لوری شاویز ڈی ریمر کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی ایک اور کلیدی رکن کو بھی فارغ کیا جارہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس بار کسی اور کو نہیں بلکہ نیشنل انٹیلی جنس کی سربراہ تلسی گیبرڈ کو گھر بھیجنے کافیصلہ کرلیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے تلسی گیبرڈ سے کہا ہے کہ وہ وسط مدتی الیکشن سے پہلے استعفی دیدیں۔یوں ٹرمپ انتظامیہ میں اعلی پیمانے پر “ صفائی”کا عمل جاری ہے۔اسی دوران یہ اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں کہ ایف بی آئی کے انڈین نژاد ڈائیریکٹر کاش پٹیل بھی خطرے کے نشان پر ہیں۔ان کی بھی چھٹی کا امکان ہے۔ ان پر الزام ہے کہ حال ہی میں ایک تقریب کی وائرل ہونے والی ویڈیو میں انہیں مبینہ طور پر نشے میں دھت دیکھا گیا ہے۔ ڈیموکریٹ سینیٹرز پہلے ہی اپسٹین فائلز کے معاملہ میں صدر ٹرمپ کو بچانے کی ان کی کوششوں کی وجہ سے ان سے شاکی نظر آتے ہیں۔ڈرائع کے مطابق وائیٹ ہاؤس میں عہدےداروں سے بھرے ایک اجلاس کے دوران تکسی گیبرڈ پر واضح کیا جاچکا ہے کہ مڈ ٹرم الیکشن سے قبل انہیں مستعفی ہونا پڑے گا۔اس فیصلہ کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ایران جنگ کے حوالے سے صدر اور انٹیلیُجنس حکام کے درمیان واضح اختلافات پائے جاتے ہیں۔ گزشتہ ماہ ( مارچ) تلسی گیبرڈ کے ڈپٹی جو کینٹ ایران جنگ میں امریکہ کی شمولیت اور اسرائیل کے حد سے زیادہ عمل دخل کی وجہ سے احتجاجا مستعفی ہوچکے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ صدر ٹرمپ کی گزشتہ انتظامیہ کے نصف سے زائد عہدیداران ان سے اختلافات کی بنا پر مدت کی تکمیل سے پہلے یا تو خود چلے گئے یا صدر نے انہیں گھر جانے پر مجبور کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں