نیویارک ( آواز نیوز) ایک خاتون کولمبیا کی نیشنل یونیورسٹی کی لیبارٹری برائے جینیٹکس آف پاپولیشنز اینڈ آئیڈینٹیفکیشن پہنچی اور وہاں موجود اہلکاروں سے درخواست کی اُن کے ہاں دو سال قبل جڑواں بیٹے پیدا ہوئے تھے اور اب وہ اُن کی ولدیت کی تصدیق کرنا چاہ رہی ہیں۔
لیبارٹری کے سٹاف نے بچوں کا ابتدائی ٹیسٹ کیا اور پھر تصدیق کے لیے دوبارہ وہی ٹیسٹ دہرایا گیا۔ پہلے ٹیسٹ کا نتیجہ اِس قدر حیران کُن تھا کہ لیبارٹری میں موجود ماہرین اس کی دوبارہ تصدیق کرنا چاہتے تھے کہ آیا اُن کے سامنے جو رپورٹ آئی ہے وہ درست ہے یا نہیں۔
ماہرین کے سامنے جو رپورٹس موجود تھیں اُن کے مطابق جڑواں بچوں کی ماں تو ایک ہی تھیں، مگر اُن کے والد الگ الگ تھے۔
یہ ایک نہایت نایاب اور حیران کُن معاملہ ہے جسے طب کی زبان میں ’ہیٹروپیٹرنل سپرفیکیونڈیشن‘ کہا جاتا ہے۔
دنیا بھر اب تک اس نوعیت کے بمشکل 20 کے قریب کیسز ہی رپورٹ ہوئے ہیں۔ اگرچہ لیبارٹری میں موجود ماہرین کے لیے یہ کوئی ایسی بات نہیں تھی کہ جس کا انھیں اس سے قبل علم نہیں تھا، مگر نیشنل یونیورسٹی کے ماہرین کو اس سے پہلے کبھی ایسا کیس براہِ راست دیکھنے کو نہیں ملا تھا۔
اور پھر کیا تھا بس ظاہر سی بات ہے کہ اس معاملے نے ان کی سائنسی دلچسپی کو بڑھا دیا۔ کسی بھی شخص کی ولدیت کا تعین کرنے کے لیے کولمبیا کی نیشنل یونیورسٹی کی لیبارٹری میں موجود ماہرین ایک ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں جسے ’مائیکرو سیٹلائٹ مارکرز‘ کہا جاتا ہے۔ عام الفاظ میں اس عمل میں بچے، ماں اور مبینہ والد کے ڈی این اے کے چھوٹے چھوٹے حصوں کا تجزیہ کیا جاتا ہے اور اُن کا آپس میں موازنہ کیا جاتا ہے۔
لیبارٹری کے ڈائریکٹر پروفیسر ولیم اوساکوئن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم اُن سب کا ڈی این اے لیتے ہیں، ہم 15 سے 22 مقامات دیکھتے ہیں جنھیں مائیکرو سیٹلائٹس کہا جاتا ہے اور ہم اُن کا ایک ایک کر کے موازنہ کرتے ہیں۔‘
لیکن یہ عمل فقط اتنا بھی سادہ نہیں کہ ڈی این اے کو ایک طاقتور خوردبین کے نیچے رکھ کر اسے دیکھ لیا جائے۔
انگلی سے خون کا نمونہ لینے کے بعد سائنسدان ایک کیمیائی عمل انجام دیتے ہیں تاکہ ڈی این اے کو دیگر اجزا سے الگ کیا جا سکے۔
پھر وہ ڈی این اے، جو انتہائی باریک ہوتا ہے، کو مخصوص آلات سے گزار کر اس کی مقدار بڑھائی جاتی ہے۔









