امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میامی میں منعقدہ فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو سے خطاب کے بعد سوال و جواب کے سیشن میں ایک متنازع بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے کامیاب لوگوں کے بجائے ناکام لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا زیادہ اچھا لگتا ہے۔
تقریب کے دوران انہوں نے حاضرین کو کھلے سوالات کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی موضوع پر بات کی جا سکتی ہے۔ صدر ٹرمپ نے گفتگو کے دوران کہا:
“میں اکثر ہارے ہوئے ناکام افراد کے ساتھ رہنا پسند کرتا ہوں کیونکہ اس سے مجھے بہتر محسوس ہوتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا:
“مجھے بہت کامیاب افراد کی کامیابی کی کہانیاں سننا پسند نہیں، میں ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہوں جو میری کامیابی کی کہانیاں سنیں۔”
ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ عالمی قیادت میں سب سے اہم عنصر ‘جیتنا’ ہے اور کھیلوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کامیابی اور ناکامی فوری طور پر واضح ہو جاتی ہے۔
بعد ازاں انہوں نے اپنے بیان پر کہا:
“میں مذاق کر رہا تھا، تاہم میں کچھ حد تک سنجیدہ بھی تھا۔”
تقریب میں ٹرمپ نے ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کا بھی ذکر کیا جنہیں 2020ء میں امریکی ڈرون حملے میں شہید کیا گیا تھا۔ ٹرمپ نے انہیں ‘عظیم لیڈر’ اور ‘پاگل ذہین’ شخص قرار دیا۔
ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای شہید ہو چکے ہیں اور حالیہ امریکی فوجی کارروائیوں نے ایران کی قیادت اور دفاعی صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ ایران کی جانب سے ابھی تک ان دعوؤں پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ ٹرمپ کے ان بیانات نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے اور ماہرین کے مطابق ایسے بیانات علاقائی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔









