آم بمقابلہ تربوز: گرمیوں کے انعامات ذیابیطس کے مریضوں کے لیے کب زہرِ قاتل بن سکتے ہیں؟ جانیے بلڈ شوگر اسپائک سے بچنے کا آسان طریقہ

اسلام آباد (ہیلتھ ڈیسک) — موسم گرما کی آمد کے ساتھ ہی بازاروں میں آم اور تربوز کی بہار آ جاتی ہے، تاہم طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ذیابیطس (شوگر) اور پری ذیابیطس کے مریضوں کو ان پھلوں کے استعمال میں خاص احتیاط برتنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان دونوں کے بلڈ شوگر پر اثرات یکساں نہیں ہوتے۔

بلڈ شوگر اسپائک کیا ہے؟
بلڈ شوگر اسپائک سے مراد خون میں گلوکوز کی سطح کا اچانک اور تیزی سے بڑھ جانا ہے، جو عموماً زیادہ میٹھے یا بہت زیادہ کاربوہائیڈریٹس والی غذاؤں کے استعمال سے رونما ہوتا ہے۔

آم: آہستہ مگر احتیاط طلب
طبی ماہرین کے مطابق آم کا گلیسیمک انڈیکس (GI) معتدل ہوتا ہے، یعنی یہ بلڈ شوگر کو نسبتاً آہستہ رفتاری سے بڑھاتا ہے۔ لیکن چونکہ اس میں قدرتی مٹھاس اور کاربوہائیڈریٹس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، اس لیے اگر اسے بے تحاشا کھایا جائے تو یہ شوگر لیول کو خطرناک حد تک بڑھا سکتا ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ کچے یا کم پکے ہوئے آم کا استعمال زیادہ محفوظ ہے اور اگر اسے دہی، خشک میوہ جات یا کسی پروٹین والی غذا کے ساتھ کھایا جائے تو اس کے شوگر پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

تربوز: تیز رفتار مگر کم مجموعی اثر
اس کے برعکس تربوز کا گلیسیمک انڈیکس کافی زیادہ ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ نظریاتی طور پر بلڈ شوگر کو تیزی سے بڑھا سکتا ہے۔ تاہم، اس میں پانی کی مقدار 90 فیصد سے زائد ہونے اور کاربوہائیڈریٹس کی مجموعی مقدار کم ہونے کی وجہ سے (جسے گلیسیمک لوڈ کہتے ہیں)، محدود مقدار میں اس کا استعمال نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا ہے۔

کون سا پھل بہتر ہے؟
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر صرف شوگر بڑھنے کی رفتار (GI) دیکھی جائے تو آم بہتر ہے، لیکن اگر مجموعی شوگر لوڈ (GL) کا جائزہ لیا جائے تو تربوز کم نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ مشہور ماہر صحت لوک کوٹینہو کے مطابق ذیابیطس کے مریضوں کو چاہیے کہ وہ روزانہ ایک چھوٹا آم یا آدھے سے زیادہ بڑا آم ہرگز نہ کھائیں۔

طبی مشورے اور احتیاطی تدابیر

  • پھلوں کی مقدار کم اور متوازن رکھیں۔
  • پھل کو کبھی بھی خالی پیٹ یا رات گئے تنہا نہ کھائیں۔
  • پھلوں کا جوس بنانے سے مکمل پرہیز کریں۔
  • پھل کو فائبر یا پروٹین (جیسے چنے، دہی یا بادام) کے ساتھ ملا کر کھائیں۔

ماہرین کا واضح موقف ہے کہ کوئی بھی پھل اپنی جگہ مکمل طور پر ممنوع یا نقصان دہ نہیں، اصل مسئلہ اس کے استعمال کی مقدار، وقت اور طریقہ کار کا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں