فائبر کو طویل عرصے سے نظامِ ہاضمہ کے مسائل کا مؤثر حل سمجھا جاتا رہا ہے اور ماہرینِ صحت عموماً ریشے دار غذا، سبزیوں اور فائبر کی مقدار بڑھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ فائبر آنتوں کی صحت بہتر بنانے، قبض سے بچاؤ اور ہاضمے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، تاہم غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر صورت میں فائبر کی مقدار بڑھانا معدے کے مسائل کا درست حل نہیں ہوتا۔
ماہرین کے مطابق اکثر افراد یہ سمجھ لیتے ہیں کہ محض سلاد کھانے سے ہی مطلوبہ فائبر حاصل ہو جاتا ہے، حالانکہ اگر کسی کو روزانہ تقریباً 30 گرام فائبر درکار ہو تو اسے 15 سے زائد پیالے سلاد کھانے پڑیں گے۔ اس کے مقابلے میں یہی مقدار ایک ایووکاڈو، دو چائے کے چمچ السی کے بیج اور دو کھانے کے چمچ چیا سیڈز سے آسانی سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ اگر ایووکاڈو دستیاب نہ ہو تو ناشپاتی یا امرود کے ساتھ چنے بھی فائبر کا مؤثر متبادل بن سکتے ہیں۔
غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ فائبر بھی پروٹین کی طرح ہر وقت اور ہر حالت میں فائدہ نہیں دیتا۔ برسوں سے اپھارہ، گیس، قبض اور بھاری پن جیسے مسائل کے لیے زیادہ فائبر کو بنیادی علاج سمجھا جاتا رہا ہے، مگر اس کے باوجود کئی افراد کو اس سے افاقہ نہیں ہوتا۔
ماہرین کے مطابق معدہ صرف مقدار سے نہیں بلکہ خوراک کی درست ترتیب اور انتخاب سے بہتر ہوتا ہے۔ یعنی زیادہ کھانا مسئلے کا حل نہیں، بلکہ یہ جاننا ضروری ہے کہ کیا کھایا جا رہا ہے اور کس انداز میں کھایا جا رہا ہے۔
غذائی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ خاص طور پر ناقابلِ حل فائبر (انسولیوبل فائبر) بعض صورتوں میں نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، بالخصوص ان افراد کے لیے جو چھوٹی آنت میں بیکٹیریا کی زیادتی (SIBO)، مستقل قبض یا سست اور حساس نظامِ ہاضمہ کا شکار ہوں۔ ایسے حالات میں زیادہ فائبر درد، اپھارہ، معدے میں خمیر بننے کے عمل میں اضافہ اور آنتوں کی حرکت میں سستی کا سبب بن سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسی لیے آنتوں کی صحت بہتر بنانے کے لیے فائبر کی بڑی مقدار شامل کرنا ہمیشہ پہلا اور فوری قدم نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہر فرد کو اپنی جسمانی کیفیت کے مطابق متوازن غذا اپنانا ضروری ہے۔









