اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی مفاہمتی یادداشت بدستور مؤثر ہے اور اسلام آباد عالمی تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنی سفارتی اور امن کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے واضح کیا کہ مفاہمتی یادداشت غیر مؤثر نہیں ہوئی۔ پاکستان عالمی سطح پر کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے خلوصِ نیت کے ساتھ اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی سے متعلق ترجمان نے کہا کہ پاکستان صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق موجودہ مسلح کارروائیوں کو پاکستان کی ثالثی یا امن کوششوں کی ناکامی قرار دینا درست نہیں، کیونکہ اسلام آباد اب بھی امن عمل کے لیے سرگرم ہے۔
سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ بھارت ثالثی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرکے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے دستبردار نہیں ہوسکتا۔ بھارت کو عالمی قوانین اور طے شدہ معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق یکطرفہ اقدامات خطے کے امن و استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں اور ایسے رویے سے عالمی سطح پر تنازعات کے حل کے لیے موجود قانونی نظام پر اعتماد متاثر ہوسکتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں مشترکہ آبی وسائل کے بہتر انتظام کے لیے معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔
یاسین ملک کے معاملے پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان ان کے خلاف مقدمے اور سزا کو مسترد کرتا ہے اور اسے انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی سمجھتا ہے۔ پاکستان یہ معاملہ عالمی اور کثیرالجہتی فورمز پر اٹھاتا رہے گا۔
ترجمان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ یاسین ملک کی زندگی اور صحت سے متعلق صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے۔









