اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے پمز اسپتال میں آتشزدگی کے واقعے پر حکومتی تحقیقات پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کی جامع تحقیقات کے لیے سینیٹ کی پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی بنانے کا مطالبہ کردیا۔
سینیٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے شیری رحمٰن نے کہا کہ موجودہ حکومتی تحقیقاتی کمیٹیوں پر اعتماد نہیں، کیونکہ مختلف کمیٹیاں ایک دوسرے ہی کی تحقیقات کر رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سابقہ تحقیقاتی کمیٹیوں کی رپورٹس بھی ایوان میں پیش کی جائیں۔
شیری رحمٰن نے کہا کہ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسپتال میں انخلاء کے راستے کھلے تھے، حالانکہ تمام راستے بند ہونے کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ واقعے کے وقت عملہ کہاں تھا، فائر سیفٹی انتظامات کیوں ناکافی تھے اور پمز کے پاس فائر این او سی کیوں موجود نہیں تھا؟
ان کا کہنا تھا کہ سی ڈی اے کی رپورٹس پمز کی رپورٹس سے مختلف ہیں اور سی ڈی اے پہلے ہی اسپتال کے فائر سیفٹی نظام میں خامیوں کی نشاندہی کر چکا تھا۔ ان کے مطابق صرف سیکریٹری کو معطل کرنا کافی نہیں، ذمہ داروں کا تعین ضروری ہے۔
شیری رحمٰن نے پمز کی موجودہ صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال اپنے آپریشنز دیگر اسپتالوں، بشمول پولی کلینک اور راولپنڈی، کو ریفر کر رہا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پمز آتشزدگی کی تحقیقات کے لیے سینیٹ کی پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے اور کمیٹی 40 روز کے اندر اپنی رپورٹ ایوان میں پیش کرے۔









