ایران میں احتجاجی مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 650 تک جا پہنچی

تہران / اوسلو:
ایران میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے دوران سیکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 650 تک پہنچ گئی ہے۔ یہ دعویٰ ناروے میں قائم بین الاقوامی تنظیم ایران ہیومن رائٹس نے کیا ہے۔
تنظیم کے مطابق اب تک کم از کم 648 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم مواصلاتی بلیک آؤٹ اور میڈیا پابندیوں کے باعث اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ ایران بھر کے مختلف شہروں میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے براہ راست فائرنگ، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
ایرانی حکام کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے، جبکہ سرکاری میڈیا ہلاکتوں کی تعداد کو کم ظاہر کر رہا ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا اداروں کو ایران کے اندر آزادانہ رپورٹنگ کی اجازت حاصل نہیں، جس سے زمینی حقائق کی تصدیق مشکل ہو گئی ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر مظاہرین کے قتل کا سلسلہ جاری رہا تو انتہائی سخت آپشنز پر غور کیا جا سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی ایرانی حکومت کو خبردار کر چکے ہیں۔
ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا پر سخت تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ واشنگٹن کرائے کے غدار عناصر کے ذریعے ایران کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے حکومت کے حق میں نکالی گئی سرکاری ریلیوں کو عوامی حمایت کا ثبوت قرار دیا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا عملی اقدام کی طرف بڑھتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست پر بھی گہرے ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ احتجاج کی بنیادی وجوہات میں ایرانی کرنسی کی تاریخی گراوٹ، شدید مہنگائی اور بڑھتا ہوا معاشی بحران شامل ہیں، جو عوامی غصے کو خطرناک حد تک بڑھا چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرے اسلامی جمہوریہ ایران کو درپیش سنگین ترین چیلنجز میں سے ایک بن چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں