نیویارک: ایک حالیہ سائنسی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ روزانہ ملٹی وٹامن کا استعمال بڑھاپے کے عمل کو نمایاں طور پر سست کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ معروف سائنسی جریدے نیچر میڈیسن میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق، 70 سال سے زائد عمر کے وہ افراد جنہوں نے دو سال تک روزانہ ملٹی وٹامن سپلیمنٹ لیا، ان میں بڑھاپے کے اثرات ان لوگوں کے مقابلے میں تقریباً چار ماہ تک سست ہو گئے جنہوں نے یہ سپلیمنٹ نہیں لیا۔
تحقیق کا طریقہ کار:
اس اہم مطالعے کے لیے سائنس دانوں نے 958 صحت مند بزرگ افراد کے خون کے نمونوں کا گہرائی سے جائزہ لیا۔ محققین نے ان افراد کی حیاتیاتی عمر (Biological Age) کا اندازہ لگانے کے لیے پانچ مختلف ایپی جینیٹک کلاکس (Epigenetic Clocks) کا تجزیہ کیا۔ یہ کلاکس دراصل ڈی این اے میتھائلیشن (DNA Methylation) کے پیٹرن کو ناپتے ہیں، جو کہ سالماتی سطح پر عمر بڑھنے کے درست بائیو مارکرز (Biomarkers) تصور کیے جاتے ہیں۔
نتائج کیا ہیں؟
تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ روزانہ ملٹی وٹامن لینے سے پانچ میں سے دو ایپی جینیٹک کلاکس میں بڑھاپے کی رفتار نمایاں طور پر سست پائی گئی۔ یہ دونوں کلاکس موت کے خطرے سے بھی منسلک ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے:
مطالعے کے شریک مصنف کا کہنا تھا کہ اس تحقیق کا مقصد صرف لمبی عمر کا راز تلاش کرنا نہیں بلکہ معیاری زندگی گزارنے کے طریقے دریافت کرنا ہے۔ اگرچہ محققین کا کہنا ہے کہ اس ڈیٹا کو براہ راست طبی نتائج سے جوڑنا ابھی قبل از وقت ہو گا، تاہم دو سال کے دوران ملٹی وٹامن کے اثرات انتہائی امید افزا ہیں۔
عمر رسیدگی کے سائنسی مطالعے کے ماہر اسٹیو ہوروتھ نے اس تحقیق کو “انتہائی دلچسپ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عام لوگوں کے اس سوال کا جواب دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے کہ آیا روزمرہ کے سپلیمنٹس واقعی بڑھاپے کو سست کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مختلف ایپی جینیٹک کلاکس میں نظر آنے والی مستقل مزاجی سائنس دانوں کی توقعات کے عین مطابق ہے۔









