تہران/برن: ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، تہران نے علاقائی ممالک کو امریکہ کی جانب سے ممکنہ ‘فالس فلیگ آپریشن’ (جعلی جھنڈے والی کارروائی) کے بارے میں خبردار کر دیا ہے۔ ایران کا الزام ہے کہ امریکہ اس منصوبے کے تحت ایران پر حملے کا بہانہ بنانے کے لیے خود ساختہ کارروائی میں ایران کے مقامی ‘شاہد ڈرونز’ کی نقل استعمال کر سکتا ہے۔
ادھر یورپ میں، سوئٹزرلینڈ نے اپنی طویل المدتی غیر جانبداری کی پالیسی کے تحت ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے ایران جنگ سے براہ راست منسلک امریکی فوجی پروازوں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ سوئس حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندی مسلح تنازعات میں غیر فریق رہنے کی دیرینہ روایت کے تحت عائد کی گئی ہے۔ تاہم، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تین غیر جنگی امریکی پروازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
دوسری جانب واشنگٹن میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران مذاکرات کے ذریعے تنازع ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے، لیکن ابھی تک اس کی پیش کردہ شرائط تسلی بخش نہیں ہیں۔” ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران امریکی شرائط ماننے کے لیے تیار نہیں ہے اور زور دے کر کہا کہ “امریکہ نے ایران کو فوجی اور معاشی طور پر مکمل شکست دے دی ہے۔”
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جہاں اصفہان میں ڈرون فیکٹری پر حملے اور خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔









