ایران کے نئے رہنما مجتبیٰ خامنہ ای بالکل ٹھیک ہیں نائب وزیرِ خارجہ کا بھارتی میڈیا کو انٹرویو،

تہران/نئی دہلی: ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری شدید کشیدگی کے بیچ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور ان کے منظر عام پر نہ آنے سے متعلق میڈیا میں گردش کرنے والی تمام قیاس آرائیوں کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

ایران کے نائب وزیرِ خارجہ اسماعیل بقائی نے بھارتی میڈیا کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ایرانی سپریم لیڈر کی حالت سے متعلق تمام خبروں کی واضح الفاظ میں تردید کر دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ “میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ مجتبیٰ خامنہ ای بالکل ٹھیک ہیں اور صحت یاب ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ پہلے ہی ان کا پیغام سن چکے ہیں اور امید ہے کہ بہت جلد وہ عوام کو ایک اور اہم پیغام دیں گے۔”

کیا ہے قیاس آرائیوں کی حقیقت؟
واضح رہے کہ گزشتہ چند روز سے بین الاقوامی میڈیا میں یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے تہران پر کیے گئے فضائی حملوں کے دوران زخمی ہو گئے تھے۔ بعض رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ انہیں علاج کے لیے روسی دارالحکومت ماسکو منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی ٹانگ کی سرجری کی گئی۔

ٹرمپ کا متنازع بیان
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ “مجھے نہیں معلوم کہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں یا نہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ “میں سن رہا ہوں کہ شاید وہ زندہ نہیں ہیں، اور اگر زندہ ہیں تو انہیں اپنے ملک کے لیے دانشمندانہ فیصلہ کرنا چاہیے اور ہتھیار ڈال دینا چاہیے۔”

ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں سیاسی قیادت سے متعلق غیر یقینی کی فضا پائی جاتی ہے، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اب صورتِ حال واضح کر دی گئی ہے۔

ماہرین کا تجزیہ
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی قیادت کی جانب سے اس بروقت وضاحت کو علاقائی کشیدگی کے پیش نظر دیکھا جا رہا ہے۔ بقائی کا بیان نہ صرف میڈیا قیاس آرائیوں کا جواب ہے بلکہ ملکی و بین الاقوامی سطح پر یہ پیغام دینے کی کوشش ہے کہ ایران میں قیادت مضبوط اور متحد ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں