اسرائیل کا تہران پر بڑے پیمانے پر نیا حملہ

تہران/تل ابیب: ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں تشدد کی نئی لہر آ گئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے تہران پر بڑے پیمانے پر حملوں کی نئی لہر شروع کر دی ہے، جس میں دارالحکومت میں انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔

اسرائیلی فوج نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں کہا ہے کہ “آئی ڈی ایف (اسرائیلی فوج) نے تہران میں ایرانی دہشت گرد رجیم کے انفرااسٹرکچر کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کی لہر شروع کر دی ہے” ۔

نشانہ بننے والے علاقے
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے شہر اندرزگو کے علاقے میں ایک بڑا دھماکا ہوا جبکہ کامرانیہ کے علاقے میں پاسدارانِ انقلاب کی بسیج فورس کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ سعد آباد پیلس کمپلیکس کے قریب بھی کئی شدید دھماکے سنائی دیے، تاہم ان دھماکوں کی نوعیت فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی ۔

اس سے قبل کرج، شہریار اور شیراز کے علاقوں میں بھی فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں ۔

شہری ہلاکتیں
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اراک شہر میں امریکا اور اسرائیل کے حملے میں نومولود بچہ اور اس کی 2 سالہ بہن سمیت والدہ اور دادی شہید ہو گئی ہیں۔ ایران کی وزارت صحت کے مطابق 28 فروری سے جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 1444 افراد شہید اور 18551 زخمی ہو چکے ہیں ۔

عراق میں امریکی سفارت خانے پر حملہ
ادھر عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارت خانے کو ڈرون اور راکٹ حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ عراقی سیکیورٹی ذرائع نے اسے ان حملوں کا آغاز ہونے کے بعد سے “شدید ترین حملہ” قرار دیا ہے، جس میں کم از کم پانچ ڈرون استعمال کیے گئے ۔

بغداد کے الجزیریہ علاقے میں ایک گھر پر میزائل حملے میں دو افراد ہلاک ہو گئے، ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ ایرانی مشیر تھے ۔

متحدہ عرب امارات پر ڈرون حملہ
متحدہ عرب امارات کی فجیرہ آئل انڈسٹری زون میں ایرانی ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ امارات نے عارضی طور پر اپنی فضائی حدود بند کر دی تھی جو بعد ازاں معمول پر آ گئی ۔

عالمی ردعمل
اسرائیلی سفیر ریوین آذر نے بھارت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایران کے ساتھ “تاحیات جنگ” نہیں چاہتا اور اگر ایران “اپنا راستہ بدل لے” تو سفارتی حل پر بات چیت کی جا سکتی ہے ۔

ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے صدر ٹرمپ کی ایران پالیسی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔

چین کا موقف
چینی خبر رساں ادارے شینہوا کے مطابق ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کے پاس اعداد و شمار موجود ہیں کہ امریکا اور اسرائیل علاقائی ممالک پر حملے کر رہے ہیں۔ انہوں نے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بنانے کی تجویز دی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں