برطانیہ کی جامعات میں طلبہ کی نگرانی کا انکشاف، فلسطین حامی افراد نشانے پر

برطانیہ کی 12 معروف جامعات کی جانب سے ایک نجی سیکیورٹی کمپنی کے ذریعے طلبہ اور اساتذہ، خصوصاً فلسطین کے حامی افراد کی نگرانی کرانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

غیر ملکی جریدے کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق مذکورہ کمپنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی نگرانی کی، طلبہ کی سرگرمیوں کا ریکارڈ رکھا اور بعض مہمان مقررین کے بارے میں خفیہ سیکیورٹی جائزے بھی تیار کیے۔ اس مقصد کے لیے 2022ء سے اب تک جامعات کی جانب سے تقریباً 4 لاکھ 40 ہزار پاؤنڈ سے زائد رقم ادا کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق نگرانی میں شامل افراد میں ایک فلسطینی پروفیسر اور ایک پی ایچ ڈی طالبہ بھی شامل ہیں، جن کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کو باقاعدہ رپورٹس کا حصہ بنایا گیا۔

اس معاملے پر بعض جامعات کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات صرف سیکیورٹی خدشات اور کیمپس کے تحفظ کے لیے کیے گئے، تاہم ناقدین نے اسے آزادیٔ اظہارِ رائے پر حملہ قرار دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ایک عہدیدار United Nations نے خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کی ڈیٹا نگرانی قانونی اور اخلاقی لحاظ سے سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے، جس سے طلبہ میں خوف اور ذہنی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

متاثرہ طلبہ کے مطابق انہیں اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ ان کی سرگرمیوں پر اس حد تک خفیہ نگرانی کی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں