واشنگٹن ( آواز نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں شامل کیے جانے والا ایک نیا بوئنگ 8-747 طیارہ متعارف کروایا ہے۔
یہ طیارہ جس کی مالیت کا تخمینہ 40 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے قطر کی حکومت نے گذشتہ سال امریکہ کو بطور ’غیر مشروط‘ تحفہ دیا تھا۔ اب امریکی فوج نے اس لگژری جمبو جیٹ میں ترامیم مکمل کر لی ہیں۔
ٹرمپ نے جمعے کو جوائنٹ بیس اینڈروز میں ایک خطاب کے دوران کہا ’اس طیارے کو ایسے فلائنگ وائٹ ہاؤس میں تبدیل کیا گیا ہے جس کی لگژری کی سطح پہلے کبھی کسی نے نہیں دیکھی۔‘
امریکی فضائیہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ طیارہ اب ابتدائی کمیشننگ پروازیں شروع کرے گا۔ کمیشننگ پروازیں طیارے میں کی گئی ترامیم کو جانچنے کے لیے ایک ’حتمی امتحان‘ ہوتا ہے جس کے بعد ہی اسے صدر کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ فضائیہ کے مطابق طیارے میں کی گئی ترامیم میں سکیورٹی، مشن کمیونیکیشنز، لاجسٹکس سپورٹ اور جدید ٹیکنالوجی اپ گریڈ شامل ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ پہلے سے استعمال شدہ اس طیارے میں موجود کسی بھی ممکنہ خطرے کو ’غیر مؤثر‘ کر دیا گیا ہے۔ طیارے کے اندرونی حصوں میں کم سے کم تبدیلیاں کی گئی ہیں، جبکہ بیرونی حصہ پر سرخ، سفید، نیلا اور سنہرا رنگ کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ مئی 2025 میں، قطر کے شاہی خاندان نے یہ لگژری بوئنگ 8-747 امریکی محکمہ دفاع کو عطیہ کیا تھا تاکہ اسے طیاروں کے اس بیڑے کا حصہ بنایا جا سکے جسے ایئر فورس ون کہا جاتا ہے اور جو امریکی صدر کے فضائی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اگرچہ وفاقی قانون کے مطابق امریکی حکام صرف 480 ڈالر تک کے تحائف قبول کر سکتے ہیں، وائٹ ہاؤس نے اصرار کیا ہے کہ اس طیارے کو قبول کرنا قانونی ہے اور یہ وعدہ کیا ہے کہ ٹرمپ کے منصب چھوڑنے کے بعد اسے ان کی صدارتی لائبریری کو عطیہ کر دیا جائے گا۔
ٹرمپ نے اپنے ایک خطاب میں کہا کہ ’اس طیارے کی کاریگری ایسی ہے کہ جب آپ اسے دیکھیں گے تو یقین نہیں کریں گے۔‘
’درحقیقت (اس میں استعمال کی گئی) لکڑی کا معیار، مواد کا معیار، انجنز کا معیار، یہ انجنز بہترین ہیں، دنیا میں سب سے بہترین، اس جیسا کچھ نہیں۔‘
قطری طیارے کو شامل کیے جانے سے قبل ایئر فورس ون کے بیڑے میں دو 747-200B طیارے شامل تھے جو 1990 سے استعمال میں ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشنز ڈائریکٹر سٹیون چیونگ کے مطابق ان پرانے ماڈلز میں سے ایک کا استعمال اب بظاہر مرحلہ وار ختم کر دیا گیا ہے۔









