اسلام آباد (ویب ڈیسک) – پاکستان کے تنخواہ دار طبقے میں جمعے کے روز پیش کیے جانے والے بجٹ کو لے کر شدید خدشات پائے جاتے ہیں کہ یا تو ان کی آمدن پر مزید ٹیکس عائد ہوگا، یا پھر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے سے ان پر بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔
ان خدشات کے درمیان جمعرات کو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اقتصادی سروے پیش کیا، جس میں انہوں نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے سبب پاکستان کی اقتصادی شرح نمو میں کمی آئی ہے، جبکہ افغانستان کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث ملکی برآمدات میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔
آئندہ مالی سال 2025-2026 کے بجٹ سے قبل جاری کیے گئے اس سروے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ جنگ کے سبب معاشی شرح نمو اپنے ہدف سے کم رہی، لیکن اس کے باوجود اقتصادی استحکام کے نتیجے میں رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی معیشت 11 فیصد بڑھ کر 452 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
حکومت کے مطابق قرضوں کا بوجھ کم کیا جا رہا ہے اور اب جی ڈی پی میں قرضوں کی شرح 68.5 فیصد رہ گئی ہے، جو مالی سال 2024 میں 70 فیصد تھی۔ اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان کی فی کس سالانہ آمدنی 1901 ڈالر ہے۔
دوسری جانب تنخواہ دار طبقہ بجٹ میں ریلیف کی امید لگائے بیٹھا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ جاری پروگرام کے تحت حکومت کے پاس ٹیکس محصولات بڑھانے کے علاوہ زیادہ آپشنز موجود نہیں ہیں۔









