تہران (نیوز ڈیسک) — ایران نے امریکہ کی جانب سے اپنی امن تجویز مسترد کیے جانے پر سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر جنگ مسلط کی گئی تو اسے “بھرپور جواب” دیا جائے گا۔ تاہم، تہران نے ساتھ ہی اس بات کا اشارہ بھی دیا ہے کہ سفارت کاری کی راہیں اب بھی کھلی ہیں اور وہ “ہر موقع” سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تازہ ترین تجاویز کو “مکمل طور پر ناقابلِ قبول” قرار دے کر مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی نے ایک مرتبہ پھر خطرناک موڑ اختیار کر لیا ہے۔
“جب بھی مجبور کیا گیا، ہم لڑیں گے”
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک باضابطہ بیان میں کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں لیکن اپنے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
انہوں نے کہا، “جب بھی ہمیں لڑنے پر مجبور کیا جائے گا، ہم لڑیں گے۔” تاہم، انہوں نے اس کے فوراً بعد یہ بھی واضح کیا کہ “سفارت کاری کا راستہ کھلا ہے اور تہران اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ جب بھی سفارت کاری کی گنجائش ہو گی، ہم اس موقع کو استعمال کریں گے۔”
بقائی کا کہنا تھا کہ سفارت کاری کے اپنے اصول ہیں اور ایران ہر فیصلہ صرف اور صرف اپنے قومی مفادات کو سامنے رکھ کر کرے گا۔
امریکی مؤقف پر تنقید اور پاکستان کا ثالثانہ کردار
ایرانی ترجمان نے امریکی مؤقف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اب بھی “غیر معقول” مطالبات پر قائم ہے، جس کی وجہ سے مذاکرات کا تعطل برقرار ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران نے اتوار کے روز پاکستان کے ذریعے اپنا تازہ ترین جواب امریکہ تک پہنچایا تھا، لیکن اسے مسترد کر دیا گیا۔
اسماعیل بقائی نے زور دیتے ہوئے کہا، “ہمارا یہ جواب ہرگز حد سے تجاوز کرنے والا نہیں تھا۔”
“امن اور استحکام خطرے میں”
انہوں نے خبردار کیا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کرنے سے نہ صرف خطے کا امن مزید متاثر ہوا ہے بلکہ پورے خطے کی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
بقائی نے کہا، “موجودہ صورتِ حال نے پورے خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایران اپنے عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا پختہ عزم رکھتا ہے۔”
یہ صورتِ حال خلیجی خطے میں جاری فوجی کشیدگی اور بڑھتی ہوئی ڈرون کارروائیوں کے تناظر میں مزید غیر یقینی پیدا کر رہی ہے، جبکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔








