واشنگٹن/تہران (نیوز ڈیسک) — امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی لانے کے لیے بالواسطہ طور پر ہونے والے امن مذاکرات شدید اختلافات کے بعد تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔ دونوں فریقین نے ایک دوسرے کی حالیہ تجاویز کو مسترد کر دیا ہے اور پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں خلیجی خطے میں فوجی تصادم کا خطرہ بدستور برقرار ہے اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ریکارڈ بلندیوں پر پہنچ گئی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی تجاویز کو ‘مکمل طور پر ناقابلِ قبول’ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، جبکہ ایران نے امریکی مطالبات کو اپنی ‘خودمختاری کے خلاف’ قرار دیا ہے۔
فریقین کے مؤقف میں بنیادی خلیج
ذرائع کے مطابق، ایران نے اپنی تازہ ترین تجاویز میں اپنے جوہری پروگرام پر ملکی کنٹرول برقرار رکھنے، اپنے خلاف عائد پابندیوں کے مکمل خاتمے اور بحری ناکہ بندی کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ دوسری جانب، بین الاقوامی ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مزید سخت اقدامات اور آبنائے ہرمز کو غیر مشروط طور پر بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھولنے کا خواہاں ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ “ہم کسی ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے جو ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی اجازت دیتا ہو،” جبکہ ایرانی حکام کا اصرار ہے کہ ان کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ محض اپنے “جائز حقوق” کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ خود سے شروع کی گئی اس جنگ میں بری طرح پھنسنے کے بعد صدر ٹرمپ کے لیے بھی بغیر کسی سفارتی فتح کے پسپائی کا کوئی واضح راستہ موجود نہیں۔
علاقائی حالات اور ڈرون حملے
ادھر خلیجی ممالک میں سیکورٹی صورتِحال کشیدہ ہو گئی ہے۔ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے اپنی فضائی حدود میں دو مشتبہ ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ قطر نے اپنے سمندری علاقے میں ایک تجارتی جہاز پر حملے کی تصدیق کی ہے۔ کویت نے بھی اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک ڈرون کو تباہ کرنے کی اطلاع دی ہے۔
عالمی معیشت پر منفی اثرات
سفارتی تعطل اور بحری کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات کے پیشِ نظر برینٹ خام تیل کی قیمت 2.69 فیصد کے نمایاں اضافے کے بعد 104.01 ڈالر فی بیرل کی بلند سطح پر بند ہوئی۔ ماہرین اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ بحران جاری رہا تو قیمتیں 130 ڈالر فی بیرل تک بھی جا سکتی ہیں۔
دوسری جانب، عرب میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکہ کے اندر بھی جنگ کے خلاف عوامی ردِعمل بڑھ رہا ہے، جہاں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔








