آئی ایم ایف بورڈ سے پاکستان کے لیے 1.32 ارب ڈالر کی منظوری

اسلام آباد (ویب ڈیسک) — انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے معاشی پروگرام کے تیسرے جائزے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت پاکستان کو تقریباً 1 ارب 32 کروڑ ڈالر کی نئی قسط جاری کی جائے گی۔

آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسیلیٹی (EFF) کے تحت پاکستان کو 1.1 ارب ڈالر فراہم کیے جائیں گے، جب کہ ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلیٹی (RSF) کے تحت مزید 22 کروڑ ڈالر دیے جائیں گے۔

اعلامیے میں پاکستان کی معاشی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باوجود پاکستان نے معاشی اہداف حاصل کیے اور استحکام برقرار رکھا۔ دسمبر کے اختتام تک پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 16 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

آئی ایم ایف نے رواں مالی سال 2026ء میں پاکستان کی شرح نمو 3.6 فیصد، مہنگائی کی شرح 7.2 فیصد، اور بیروزگاری کی شرح 6.9 فیصد رہنے کا تخمینہ پیش کیا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر 17.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے جب کہ قرض ٹو جی ڈی پی تناسب 73.8 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کو مزید اصلاحات پر زور دیتے ہوئے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں لاگت کے مطابق رکھنے، سرکاری اداروں کی نجکاری تیز کرنے، اور تعلیم و صحت پر اخراجات بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔ اسٹیٹ بینک کو بھی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کو کاروباری وسعت کے لیے مسابقت کو فروغ دینا ہو گا، جس سے پیداواری شعبہ ترقی کرے گا اور ملک طویل مدتی معاشی گروتھ حاصل کر سکتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے بھی اصلاحات جاری رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں