اکنا ریلیف نے امریکہ بھر میں سب سے بڑے بیک ٹو اسکول پروگرام کا اعلان کردیا، 50 ہزار بیگز تقسیم کئے جائیں گے


نیویارک ( رپورٹ: محمد فرخ) اکنا ریلیف کے چند بڑے پروگراموں میں سے ایک بیک ٹو اسکول پروگرام کا آغاز یکم اگست سے ہوگا۔ اس سیگنیچر پروگرام کے تحت امریکہ بھر میں 50 ہزار سکول بیگز بمع سپلائیز تقسیم کئے جائیں گے جن میں سے لگ بھگ 7 ہزار بیگز نیو یارک میں تقسیم کئے جائیں گے۔اکنا ریلیف نیویارک کے ذمہ داروں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بیک ٹو سکول پروگرام 2026 کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔اکنا ریلیف کے ارشد جمال نے بیک ٹو سکول پروگرام کی چیف ایمبیسیڈر فرح ضیاء، بیک ٹو سکول نیویارک کی انچارج اقصی خٹک اور اکنا ریلیف کے میڈیا ڈائیریکٹر معوذ صدیقی کے ہمراہ بھرپور پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ایک ملین ضرورتمند افراد کا ہدف مکمل ہوا تھا۔ارشد جمال نے کہا کہ گزشتہ برسوں کی کامیابی کے بعد ہم ایک بار پھر  یکم اگست سے ضرورتمندوں اور مستحقین کے لئے بیک ٹو اسکول کا آغازکررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا اس پروگرام کے ذریعے ہم امریکہ کے دور دراز اور چھوٹے بڑے علاقوں تک پہنچے ہیں.اور اپنی بات پہنچائی ہے۔ارشد جمال نے مذید کہا کہ اس پروجیکٹ کو صرف اس نکتہ نظر سے نہ دیکھیں کہ کسی مذہبی یا دوسرے سٹوڈنٹس کو بیگز دئے گئے ہیں بلکہ اس پہلو سے دیکھنے کی ضرورت سے ہے کہ ہم صرف ریلیف آرگنائزیشن نہیں ہیں ہم اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ ہیں ، جب ہم اکنا کا نام لیتے  ہیں تو خواہ ہم خوراک تقسیم کریں یا پھر سکول بیگ بانٹتے ہیں تو لوگ ہمیں اسلام کے نکتہ نظر سے دیکھتے ہیں.جب ہم ہر ہفتے کی شام مین ہٹن میں ضرورتمندوں اور بے گھروں میں خوراک تقسیم کرتے ہیں تو لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ ہم کون ہیں۔جو بارش ہو یا طوفان یا برف باری ہورہی ہو موجود ہوتے ہو۔ہم ان سے یہ نہیں کہتے کہ ہم اکنا ہیں بلکہ انہیں بتاتے ہیں ہم مسلمان ہیں۔پھر انہیں احساس ہوتا ہے کہ ہم اصل میں ہیں کون۔سی این این ، نیویارک ٹائمز یا کوئی اور امریکی میڈیا کچھ بھی کئے مگر جن لوگوں سے ہمارا واسطہ پڑتا ہے انہیں ہماری حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ یہ ہے ریلیف کی اصل طاقت۔جب ہماری بہنیں حجاب میں کھانا یا بیگز  دی رہی ہوتی ہیں تو اسلام کا سہی پیغام پہنچتا ہے۔بیک ٹو اسکول نیویارک کی انچارج اقصُی خٹک کا کہنا تھا اس سال ہماری مہم پہلے سے بڑی ہوگی ہم نیویارک سٹی میں 40 سے زائد بیک ٹو اسکول ایونٹس منعقد کریں گے۔تمام بوروز، سٹی سٹیٹ اور لانگ آئیلنڈزمیں مختلف تنظیموں اور پارٹنرز کے اشتراک سے پروگرام منعقد کریں گے۔غریب اور مستحق کمیونٹیز کی خدمت کی جائے تاکہ وہ اس پروگرام سے زیادہ سے زیادہ مستفیض ہوسکے۔یکم اگست کو جیکسن ہائیٹس کے علاقے میں واقع پارک سے مہم کا آغاز ہوگا۔بیک ٹو اسکول کی چیف ایمبیسیڈر فرح ضیاء نے کہا کہ وہ بہت آسانی سے یہ کام کرتی ہیں کیونکہ ان کے ہمراہ  والنٹئیرز بہت خوشی اور جذبے کے ساتھ رضاکارانہ طور پر کام کرتے ہیں۔ہم ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں اسلئے ہر سال یہ مہم بہترین ہوتی جارہی ہے۔ اکنا ریلیف کے میڈیا ڈائریکٹر معوذ صدیقی نے چونکہ ہم نے ضرورتمندوں کے لئے یہ مہم شروع کررکھی ہے اس لئے ہماری کوشش ہوتی ہے کہ لوکل  تنظیموں اور شراکت داروں کے ساتھ کام کریں۔مقامی حکام کے تعاون سے بھی کام کرتے ہیں انہیں ایسے علاقوں کا پتہ ہوتا ہے جہاں بیک ٹو اسکول سپلائیز کی ضرورت ہے۔اس موقع پر میڈیا کے سوالوں کے جواب بھی دئیے گئے۔ ایک سوال کے جواب میں ارشد جمال نے بتایا کہ سکولوں کے ساتھ کم تعاون ہوتا ہے کیونکہ ان کی ضروریات زیادہ ہوتی ہیں۔تاہم اگر کوئی ہم سے رابطہ کرے تو ہم ان کے اشتراک سے سکول بیگز تقسیم کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے دارلعلوم جمیکا اور آئی ٹی وی کے شہید اللہ کا حوالہ دیا۔ہم نے انہیں چار پانچ سالوں کے دوران کافی بیگز دئیے ہیں۔ میڈیا کو یہ بھی بتایا گیا کہ مساجد اور چرچوں کے اشتراک سے بھی مہم چلائی جاتی ہیں۔ پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ ایک بیگ پر لگ بھگ 35 ڈالرز کا خرچہ آتا ہے۔ تاہم اس میں والنٹئیرز اور نقل و حمل کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔ اس موقع پر والنٹئیرز میں کیپ، ٹی شرٹس اور بیج تقسیم کئے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں