نیویارک: اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل میں امریکا کے خلاف ایک نہایت تلخ اور جارحانہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا خود پُرامن جوہری تنصیبات اور شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کا ذمے دار ہے اور اسے اب پراسیکیوٹر اور جج کا کردار ادا کرنے کا کوئی حق نہیں۔
اپنے بیان میں ایرانی مندوب نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “جوہری ہتھیار استعمال کرنے والا امریکا تاریخ کا واحد ملک ہے، جس نے انسانیت کے خلاف یہ ناقابلِ معافی جرم کیا۔”
ایروانی نے مزید کہا کہ امریکا نہ صرف غیر قانونی ناکہ بندیوں کا ذمے دار ہے بلکہ وہ خطے میں اسرائیلی مظالم کی مسلسل حمایت بھی کرتا آ رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں ایرانی مندوب نے الزام عائد کیا کہ “امریکا نے ایک بار پھر سلامتی کونسل کے پلیٹ فارم کا غلط استعمال کرتے ہوئے ایران کے خلاف جھوٹ اور گمراہ کن الزامات پھیلائے ہیں۔”
ان کا کہنا تھا: “امریکا نے عالمی امن اور بحری آزادی کا منافقانہ سہارا لیا ہے، جبکہ حقیقت میں وہی ان اصولوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہے۔ اصل مجرم امریکا آج خود کو پراسیکیوٹر اور جج کے روپ میں پیش کر رہا ہے، یہ عالمی نظام کا مذاق ہے۔”
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے، امریکا نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں، اور ایران کے جوہری پروگرام پر سفارتی محاذ پر شدید دباؤ جاری ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ بیان ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج اور سفارتی جنگ کے ایک نئے باب کا اشارہ ہے۔









