کراچی: منشیات فروشی کے مقدمے میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی نے کراچی کی مقامی عدالتوں میں پیشی کے دوران پولیس پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جا رہا ہے۔ عدالتی احاطے میں سخت سکیورٹی کے باوجود ملزمہ اور پولیس کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کے مناظر بھی دیکھنے میں آئے ۔
بغدادی تھانے میں درج قتل کے ایک مقدمے میں عدالت نے ہفتے کے روز ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 2 دن کی توسیع کر دی ۔ اس کے علاوہ ساؤتھ ڈسٹرکٹ میں درج 13 دیگر مقدمات میں ملزمہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے ۔
“مجھے 20 دن سے رکھا ہوا ہے”
جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیشی کے دوران انمول پنکی نے عدالت کو بتایا کہ اسے لاہور سے حراست میں لے کر کراچی لایا گیا اور تقریباً 20 دن تک غیر قانونی طور پر رکھا گیا ۔ ملزمہ نے الزام لگایا کہ “چھ افراد نے مجھے گاڑی میں ڈالا اور اٹھا کر لے گئے۔ 15 دن بعد پولیس کے حوالے کیا گیا۔ مجھ پر دباؤ ڈال کر نام لینے پر مجبور کیا جا رہا ہے” ۔
جب عدالت نے استفسار کیا کہ اگر تشدد ہوا تو پہلے شکایت کیوں نہیں کی گئی، تو ملزمہ نے جواب دیا: “مجھے تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔”
تفتیشی افسر پر عدالت کی برہمی
سماعت کے دوران اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی جب جوڈیشل مجسٹریٹ نے تفتیشی افسر سے گزشتہ سماعت کا عدالتی حکم نامہ طلب کیا۔ تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ وہ پولیس موبائل میں موجود ہے، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیش کے معیار پر سوال اٹھایا ۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ ایک “انتہائی ماہر اور چالاک” منشیات فروش ہے جو 15 سال سے منظم نیٹ ورک چلا رہی تھی ۔ اس کے موبائل فون سے 800 سے زائد رابطوں کا ڈیٹا برآمد ہوا ہے اور کروڑوں روپے کے لین دین کا سراغ لگا ہے ۔
صحافیوں سے تلخ کلامی
سماعت شروع ہوتے ہی عدالتی احاطے میں کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں نے صحافیوں کو دھکے دیے اور انہیں کمرہ عدالت سے باہر جانے کی ہدایت کی گئی ۔ خاتون پولیس اہلکاروں نے ملزمہ کا چہرہ کپڑے سے ڈھانپنے کی کوشش کی، جس پر پنکی نے مزاحمت کی اور چیخ کر کہا کہ “میرا دم گھٹ رہا ہے، میرے چہرے پر کپڑا مت ڈالیں” ۔
ملزمہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس کا سابقہ شوہر اس کی گرفتاری کا ذمہ دار ہے، جس سے وہ تین ماہ قبل علیحدہ ہو چکی ہے ۔ اس کے علاوہ اس نے عدالت کو بتایا کہ اس پر 20 سے 25 مقدمے بنائے جا رہے ہیں اور خاندان کو دھمکیاں دی گئی ہیں کہ اگر اس نے “سب کچھ قبول نہ کیا” تو اس کے اہل خانہ کو اٹھا لیا جائے گا ۔
دوسری جانب، سینٹرل ڈسٹرکٹ کی عدالت نے ایک علیحدہ منشیات کیس میں ملزمہ کو 22 مئی تک ایس آئی یو کے جسمانی ریمانڈ پر دے دیا ہے ۔ ملیر کی عدالت نے سچل تھانے کے ایک مقدمے میں اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، تاہم استغاثہ اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا عندیہ دے چکا ہے ۔









