ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ مقامی سطح پر ایک ہزار سے زائد اقسام کے ہتھیار تیار کر رہا ہے، جن میں میزائل، ڈرونز اور جدید عسکری نظام شامل ہیں، جبکہ اس کی میزائل صلاحیت کا ایک اہم حصہ تاحال استعمال میں نہیں لایا گیا۔
ایرانی وزارتِ دفاع کے ترجمان رضا طلائی نِک نے بیان میں کہا کہ ملک کی دفاعی اور جوابی تیاریاں بلند سطح پر ہیں۔ ان کے مطابق 7 اپریل تک امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کے دوران ایرانی افواج نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کارروائیوں کے دوران ایران نے مقبوضہ علاقوں کی فضائی حدود میں برتری برقرار رکھی، جبکہ ملک میں تیار ہونے والے تمام ہتھیار مکمل طور پر مقامی سطح پر تیار کیے جاتے ہیں۔
ترجمان کے مطابق یہ صلاحیت دفاعی شعبے میں 25 سال سے زائد سرمایہ کاری کا نتیجہ ہے، اور اس وقت تقریباً 9 ہزار کمپنیاں اس صنعت کی معاونت کر رہی ہیں۔
رضا طلائی نِک نے بتایا کہ ہتھیاروں کی پیداوار ملک کے مختلف حصوں میں پھیلی ہوئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں پیداوار متاثر نہ ہو۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کو اسٹریٹجک کنٹرول کا اہم ذریعہ قرار دیا، جبکہ خلیج عمان میں مخالف قوتوں کو پسپائی اختیار کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔
مزید برآں، انہوں نے عوامی سطح پر حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ 3 کروڑ سے زائد افراد قومی دفاعی مہم میں رجسٹر ہو چکے ہیں، جو ایک غیر معمولی مثال ہے۔









