کراچی: منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی نے عدالت سے واپسی کے موقع پر میڈیا کے ایک سوال پر پراسرار اور دھماکہ خیز بیان دے دیا۔
عدالت سے روانگی کے دوران جب ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ “آپ میڈیا سے کیا کہنا چاہتی ہیں؟” تو ملزمہ نے جواب دیا: “ہم تو ڈوبے ہیں صنم، ان سب کو بھی ساتھ لے کر ڈوبیں گے۔”
اس سے قبل سٹی کورٹ کراچی میں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیشی کے دوران ملزمہ انمول پنکی نے شور شرابا کرتے ہوئے سنگین الزامات عائد کیے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ مجھے 22 دن سے اٹھایا ہوا ہے، مجھے لاہور سے 6 پولیس اہلکاروں نے گرفتار کر کے کراچی لایا گیا اور مجھ پر تشدد کیا گیا۔
ملزمہ نے اپنے خلاف بنائے گئے مقدمات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ سب کچھ ان کے سابق شوہر کی کارستانی ہے۔ عدالت کے استفسار پر کہ سابق شوہر ایسا کیوں کر رہا ہے، ملزمہ نے جواب دیا: “کیونکہ میں نے اس کو چھوڑ دیا ہے۔” انہوں نے مزید بتایا کہ تین ماہ قبل طلاق ہوئی تھی اور نکاح رجسٹرڈ نہیں تھا۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ ایک بڑے نیٹ ورک کی سربراہ ہے اور یونیورسٹیوں میں طلبہ کو منشیات سپلائی کرتی تھی۔ جبکہ وکیل ملزمہ کا کہنا تھا کہ پولیس نے اپنی طرف سے ان کا برانڈ بنایا ہوا ہے اور تمام کیسز جعلی ہیں۔
عدالت سے واپسی کے دوران لیڈی پولیس اہلکار بار بار ملزمہ کا چہرہ ڈھانپنے کی کوشش کرتی رہیں، مگر ملزمہ بار بار چہرے سے کپڑا ہٹا کر بولنے کی کوشش کرتی رہیں۔








