مشرقِ وسطیٰ پر جنگ کے سائے: ٹرمپ اور نیتن یاہو کے رابطے کے بعد اسرائیلی فوج ہائی الرٹ، ایران میں اہداف کا تعین

واشنگٹن/تل ابیب: مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی میڈیا کی مشترکہ رپورٹس کے مطابق، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر اعلیٰ سطحی گفتگو ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اس تبادلہ خیال کے بعد اسرائیلی دفاعی افواج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ اس ہفتے اپنی قومی سلامتی کی ٹیم سے بھی مشاورت کریں گے۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پینٹاگون نے ممکنہ جنگ کی صورت میں ایران میں توانائی کے مراکز اور انفراسٹرکچر سمیت اہم اہداف کا چناؤ مکمل کر لیا ہے۔ اس منصوبہ بندی کے تحت امریکہ، اسرائیل کے ساتھ مل کر حملوں میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب، اسرائیلی میڈیا نے ایک حیران کن انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جرمنی میں موجود امریکی فوجی اڈوں سے اسلحہ اور گولہ بارود سے لدے درجنوں کارگو طیارے تل ابیب پہنچے ہیں۔ اسرائیل کے چینل 13 کے مطابق، یہ بھاری ترسیل ایران کے خلاف جنگ کی تیاریوں کا حصہ ہے۔

یاد رہے کہ اتوار کو ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا تھا، جس کے بعد جنگی تیاریوں میں غیر معمولی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب مشرقِ وسطیٰ کی تازہ ترین صورتحال پر جما دی گئی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں