تہران (ویب ڈیسک) – ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک اہم پریس کانفرنس میں خطے کے ممالک خصوصاً متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات میں نرمی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران، امارات سمیت خطے کے کسی بھی ملک کو اپنا دشمن نہیں سمجھتا۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے اعلیٰ فوجی حکام کی جانب سے امارات اور امریکہ کو سخت انتباہات دیے جا رہے تھے۔ بقائی نے زور دے کر کہا کہ تہران، خلیجی خطے میں استحکام اور تعاون کا خواہاں ہے۔
پاکستانی ثالثی: تجاویز کا تبادلہ جاری
ترجمان نے تصدیق کی کہ پاکستان کی ثالثی میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کی جانب سے پیش کی گئی حالیہ تجویز پر اب تک دونوں فریق اپنے اپنے تبصرے دے چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، ایرانی تجویز 14 نکات پر مشتمل تھی جسے امریکہ نے مسترد کر دیا، جس کے بعد ترامیم کا تبادلہ ہوا اور اب ایرانی مؤقف پاکستانی ذرائع سے امریکہ کو پہنچا دیا گیا ہے۔
ایران کے بنیادی مطالبات
بقائی نے واضح کیا کہ مذاکرات میں ایران کے اہم مطالبات میں بیرون ملک منجمد ایرانی فنڈز کا اجرا اور اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ سرفہرست ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اب جان چکا ہے کہ وہ دھمکیوں اور معاشی دباؤ سے ایران کو اس کے جائز حقوق کے حصول سے نہیں روک سکتا۔
“ہماری ترجیح جنگ کا خاتمہ ہے”
ایک اہم بات یہ کہی گئی کہ “اس مرحلے پر ہماری پوری توجہ جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے۔” البتہ ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ایران کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور “دشمن کو جواب دینا بخوبی جانتے ہیں۔”
آبنائے ہرمز میکنزم: عمان کے ساتھ تکنیکی مذاکرات
بقائی نے انکشاف کیا کہ گزشتہ ہفتے عمان میں ایرانی اور عمانی تکنیکی ماہرین کی ملاقات ہوئی، جس میں آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمد و رفت کے طریقہ کار پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران، عمان سمیت تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ اس حوالے سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ ایک ایسا میکنزم تشکیل دیا جا سکے جو بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم ترین گزرگاہ ہے، جہاں سے عالمی تیل کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل ہوتی ہے اور فروری میں شروع ہونے والے تنازعے کے بعد یہ راستہ شدید متاثر ہوا ہے۔









