قطر کا امریکا اور ایران میں کشیدگی ختم کرانے کے لیے نیا سفارتی منصوبہ، جوہری تنصیبات کے معائنے کی تجویز

دوحہ: قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے نئی سفارتی کوششیں شروع کردی ہیں۔ اس سلسلے میں ایک منصوبہ زیرِ غور ہے جس کے تحت ایران کو اپنی متاثرہ جوہری تنصیبات تک اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو رسائی دینے پر آمادہ کیا جائے گا۔

برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق قطر ایران سے بات چیت کر رہا ہے تاکہ تہران اپنے ان جوہری مراکز کا معائنہ کرانے پر رضامند ہو جائے جہاں افزودہ یورینیم کا ذخیرہ موجود ہے۔ ان مقامات میں حالیہ حملوں سے متاثر ہونے والی تنصیبات بھی شامل ہیں۔

مجوزہ منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ ایران پر اپنا افزودہ یورینیم ملک سے باہر منتقل کرنے کی شرط عائد نہیں کی جا رہی۔ اس کے بجائے یورینیم کی افزودگی کی سطح کم کرنے کا متبادل پیش کیا جا رہا ہے، جسے تکنیکی زبان میں ’ڈاؤن بلینڈنگ‘ کہا جاتا ہے۔

اس طریقہ کار کے ذریعے زیادہ افزودہ یورینیم کو کم افزودہ سطح پر لایا جا سکتا ہے، جس سے ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی خدشات کم کرنے اور کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے میں مدد مل سکتی ہے۔

قطر کی سفارتی کوششوں کا ایک اور اہم مقصد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی منڈیوں تک تیل اور گیس پہنچانے کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ایران نے قطری تجویز قبول کرلی ہے یا جوہری تنصیبات کے معائنے کے حوالے سے کوئی حتمی معاہدہ طے پایا ہے۔ اس منصوبے کی کامیابی کا دارومدار امریکا اور ایران سمیت تمام متعلقہ فریقوں کی رضامندی پر ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں