اسلام آباد: بانی پاکستان تحریک انصاف اور بشریٰ بی بی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد بیرسٹر سلمان صفدر نے بشریٰ بی بی کی صحت سے متعلق اہم تفصیلات اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ہیں۔بیرسٹر سلمان صفدر نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں اپنا بیان حلفی عدالت میں جمع کراتے ہوئے بتایا کہ جیل حکام نے 31 اکتوبر کو انہیں اطلاع دی تھی کہ 2 نومبر کو بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ملاقات شام 4 بجے شروع ہوئی اور تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔بیان حلفی میں سلمان صفدر کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران بشریٰ بی بی نے انتہائی گہرے سیاہ رنگ کا چشمہ پہن رکھا تھا۔ ان کے اور بانی پی ٹی آئی کے اصرار پر جب بشریٰ بی بی نے چشمہ اتارا تو وہ بظاہر شدید تکلیف اور پریشانی میں دکھائی دیں۔سلمان صفدر کے مطابق بشریٰ بی بی نے بتایا کہ وہ سورج کی روشنی اور مصنوعی روشنی دونوں برداشت نہیں کر سکتیں، حتیٰ کہ چشمے کے بغیر آنکھیں کھولنا بھی ان کے لیے مشکل ہے۔ وکیل نے اپنے بیان میں خدشہ ظاہر کیا کہ ان کی بینائی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔بیان حلفی کے مطابق بانی پی ٹی آئی بھی بشریٰ بی بی کی آنکھوں کی بگڑتی ہوئی حالت پر پریشان دکھائی دیے۔ بشریٰ بی بی نے بتایا کہ جیل میں معائنے کے لیے آنے والے ڈاکٹروں نے ان کی بیماری کو ’مچیور کیٹریکٹ‘ قرار دیا ہے اور انہیں 15 نومبر کے قریب آنکھوں کا مزید ایک آپریشن کرانے کا کہا گیا ہے۔بیرسٹر سلمان صفدر نے مزید بتایا کہ بشریٰ بی بی نے جیل میں صفائی کے انتظامات اور فراہم کیے جانے والے طبی علاج پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے درخواست کی کہ ان کا طبی معائنہ اور علاج ان کے ذاتی ڈاکٹروں کے ذریعے کرایا جائے۔ وکیل نے یقین دہانی کرائی کہ وہ یہ معاملہ عدالت کے سامنے اٹھائیں گے۔دوسری جانب بشریٰ بی بی نے عدالت میں ایک متفرق درخواست دائر کرتے ہوئے اپنا مکمل میڈیکل ریکارڈ پیش کرنے اور فوری طور پر ماہر امراضِ چشم سے معائنہ کرانے کی استدعا کی ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کی آنکھوں کی حالت تیزی سے خراب ہو رہی ہے، اس لیے ماہر امراضِ چشم اور جیل کے میڈیکل افسر کے درمیان فوری طبی مشاورت ضروری ہے۔یہ درخواست بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف چوہدری کے توسط سے دائر کی گئی ہے۔









