ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر دہشت گرد حملے، 7 اہلکار و شہری شہید، 3 پولیس اہلکار زخمی


ٹانک / لکی مروت:
خیبر پختونخوا کے اضلاع ٹانک اور لکی مروت میں پولیس کو دہشت گردی کے دو الگ الگ واقعات میں نشانہ بنایا گیا، جہاں آئی ای ڈی بم دھماکوں کے نتیجے میں ایس ایچ او سمیت 6 پولیس اہلکار اور ایک راہگیر شہید جبکہ 3 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
پہلا واقعہ ضلع ٹانک کے علاقے گومل میں پیش آیا، جہاں کوٹ ولی سے تقریباً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر پولیس کی اے پی سی (بکتر بند گاڑی) کو آئی ای ڈی بم حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ بکتر بند گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں ایس ایچ او تھانہ گومل اسحاق احمد خان، اے ایس آئی شیر اسلم خان، ڈرائیور عبدالمجید، ارشد علی، حضرت علی اور احسان اللہ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ بعد ازاں ایک راہگیر بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جانبر نہ ہو سکا، جس کے بعد شہدا کی تعداد 7 ہو گئی۔ راہگیر کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئیں اور لاشوں و زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
دوسرا واقعہ ضلع لکی مروت میں تھانہ صدر کی حدود درہ تنگ پل کے قریب پیش آیا، جہاں سڑک کنارے نصب آئی ای ڈی بم دھماکے میں ایس ایچ او تھانہ صدر رازق خان سمیت 3 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق دھماکے کے وقت ڈی پی او لکی مروت علاقے میں سیکیورٹی چوکیوں کے دورے پر تھے اور اسی راستے سے گزرنے والے تھے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز اسی مقام سے ایک وکیل کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا بھی کیا تھا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
دریں اثنا گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ٹانک میں پولیس کی بکتر بند گاڑی پر حملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب کر لی۔
انہوں نے شہدا کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے بہادر جوانوں نے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
گورنر کے پی نے کہا کہ “ہندوستان کی پشت پناہی کے حامل فتنۃ الخوارج کی یہ بزدلانہ کارروائیاں ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔ صوبائی حکومت ہوش کے ناخن لے اور امن و امان کے قیام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں