مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق تشویشناک دعوے، منظرِ عام سے غائب ہونے کی وجوہات سامنے آ گئیں

ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور موجودگی سے متعلق سامنے آنے والی تازہ رپورٹس میں ان کی حالت کے حوالے سے تشویشناک دعوے کیے گئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای مارچ میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے منظرِ عام پر نہیں آئے اور نہ ہی ان کی کوئی آڈیو یا ویڈیو سامنے آئی ہے، جس سے مختلف قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت ایران میں سیکیورٹی، جنگ اور سفارتی فیصلے زیادہ تر پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ کمانڈرز اور ان کے قریبی حلقے کر رہے ہیں۔

سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے سابق مشیر عبدالرضا دواری کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای ملک کو ایک “بورڈ آف ڈائریکٹرز” کے انداز میں چلا رہے ہیں، جہاں اہم فیصلے مشاورت سے کیے جا رہے ہیں۔

رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ان کے والد کے کمپاؤنڈ پر حملے کے بعد وہ روپوش ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق اس حملے میں وہ شدید زخمی ہوئے تھے، ان کی ایک ٹانگ کے متعدد آپریشن ہو چکے ہیں اور انہیں مصنوعی ٹانگ کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جبکہ ہاتھ اور چہرے پر بھی زخم آئے ہیں۔

بین الاقوامی ذرائع کے مطابق چہرے اور ہونٹ متاثر ہونے کے باعث انہیں بولنے میں دشواری کا سامنا ہے، اسی لیے وہ عوام کے سامنے آنے سے گریز کر رہے ہیں، تاہم تحریری بیانات کے ذریعے امورِ مملکت چلا رہے ہیں۔

مزید رپورٹس کے مطابق ان تک رسائی انتہائی محدود ہے اور وہ اس وقت سخت سیکیورٹی اور طبی نگرانی میں زیرِ علاج ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں