کوئیز سپریم کورٹ میں علی نجمی کے خلاف آدم اعظم کی درخواست مسترد ، ڈیموکریٹ پرائمری بیلٹ سے نام نکالنے کا حکم

ہفت روزہ آواز نے اپنے خلاف مقدمے کے فیصلہ کے بعد جوابی مقدمے کا حق رکھتا ہے، انتظامیہ آواز

نیویارک ( آواز نیوز) سپریم کورٹ کوئینز نے ریاستی سینٹ کا انتخاب لڑنے کا دعوی کرنے والے آدم اعظم کی جانب نجمی لاء فرم اور بورڈ آف الیکشن کے خلاف دی گئی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے آدم اعظم کا نام ڈیموکریٹ پرائمری سے نکالنے کا حکم دے دیا


آدم اعظم کوشش کے باجود ریاستی سینیٹ کے انتخاب کے لیے مطلوبہ تعداد میں ،،درست دستخط ،،جمع کرانے میں ناکام رہے، جس کے بعد عدالت نے ان کی نامزدگی منسوخ کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق مقدمہ اُس وقت سامنے آیا جب Queens Board of Elections کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ امیدوار کی طرف سے جمع کروائے گئے دستخط قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں تھے اور مطلوبہ کم از کم تعداد پوری نہیں کرتے تھے۔ بعد ازاں علی نجمی لا فرم کی جانب سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی جس میں کہا گیا کہ نامزدگی کے کاغذات انتخابی قوانین کے مطابق درست نہیں ہیں۔
سپریم کورٹ نے مقدمے کی سماعت کے دوران ریکارڈ، دستاویزات اور بورڈ آف الیکشنز کی رپورٹ کا جائزہ لیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار آدم اعظم مطلوبہ تعداد میں درست اور قابلِ قبول دستخط پیش نہیں کر سکے، جبکہ عدالت میں درخواست گزار اس مؤقف کے خلاف مؤثر قانونی جواب بھی جمع نہیں کروایا گیا۔ اسی بنیاد پر عدالت نے درخواست خارج کرتے ہوئے ان کی نامزدگی کو “کالعدم اور غیر مؤثر” قرار دے دیا۔
فیصلے کے بعد اب آدم اعظم کا نام 23 جون 2026 کو ہونے والے ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری الیکشن کے بیلٹ پر شامل نہیں ہوگا۔ یہ انتخاب کوئنز کے 11ویں سینیٹوریل ضلع کی نشست کے لیے منعقد ہونا ہے۔
سیاسی اور قانونی حلقوں میں اس فیصلے کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ امریکی انتخابی نظام میں دستخطوں کی تصدیق کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق امیدوار کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ مقررہ تعداد میں ایسے دستخط جمع کروائے جو قانونی جانچ پڑتال میں درست ثابت ہوں، بصورت دیگر عدالت امیدوار کو الیکشن سے باہر کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔
تاحال یا ان کی ٹیم کی جانب سے عدالتی فیصلے پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سیاسی حلقوں میں اس فیصلے کے بعد آئندہ انتخابی صورتحال پر بحث جاری ہے۔
واضح رہے کہ درخواست گزار نے نے نیویارک سے نکلنے والے ہفت روزہ آواز پر بھی اس حوالے سے مقدمہ کیا ہے آج کے فیصلے کے بعد ہفت روزہ آواز کی خبر کی تصدیق ہو گئی جبکہ ہفت روزہ آواز کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے وہ عدالتی فیصلے کا انتظار کررہے ہیں اور اس کے بعد وہ جوابی مقدمے کا حق رکھتے ہیں اس حوالے سے اپنے قانونی مشیر سے مشورہ کے بعد ہفت روزہ فیصلے کا اعلان کرینگے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں