ترکیہ: حضرت نوح ؑ کی کشتی کے اندر کیا ہے؟

ترکیہ: مشرقی ترکیہ میں کوہِ ارارات کے قریب واقع متنازع دوروپنار فارمیشن میں جاری تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے پہلی بار خصوصی زیرِ زمین ڈرون ’گوفر‘ کو تنگ زیرِ زمین راستوں اور ممکنہ خالی جگہوں کا جائزہ لینے کے لیے استعمال کیا ہے۔

بین الاقوامی تحقیقاتی ٹیم ترکیہ کی سرکاری اجازت کے تحت اس کشتی نما ارضیاتی ساخت کا جائزہ لے رہی ہے، جسے بعض محققین حضرت نوحؑ کی کشتی سے منسوب کرتے ہیں۔ تاہم اس دعوے کی ابھی سائنسی تصدیق نہیں ہوئی۔

تحقیق کے دوران گہری ڈرلنگ کے ذریعے بنائے گئے سوراخوں سے 18 میٹر تک گہرائی میں موجود تہوں کے نمونے حاصل کیے گئے ہیں۔ محققین کے مطابق ابتدائی مشاہدات میں نامیاتی مواد سے بھرپور تہیں اور زیرِ زمین متعدد خالی جگہیں سامنے آئی ہیں، جبکہ بعض سوراخوں میں ٹھوس چٹانی تہہ بھی نہیں ملی۔

آسٹریلوی روبوٹکس ماہرین کی تیار کردہ گوفر ڈرون کو انتہائی تنگ جگہوں میں نقل و حرکت کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ بڑے پیمانے پر کھدائی کیے بغیر زیرِ زمین ساخت کا جائزہ لیا جا سکے۔ تاہم ابتدائی استعمال کے دوران ڈھیلی مٹی اور تلچھٹ کے باعث ڈرون کی نقل و حرکت میں مشکلات بھی پیش آئیں، جس کے بعد اس کے نظام میں بہتری کی جا رہی ہے۔

تحقیقاتی ٹیم نے مٹی اور لکڑی سے مشابہ نامیاتی نمونے مزید تفصیلی کاربن، معدنیاتی اور دیگر لیبارٹری تجزیوں کے لیے بھیجے ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق حتمی نتائج مکمل تجربہ گاہی جانچ کے بعد سامنے آئیں گے۔

دوروپنار فارمیشن کو کئی دہائیوں سے حضرت نوحؑ کی کشتی سے جوڑا جاتا رہا ہے، تاہم ماہرین کے درمیان یہ بحث برقرار ہے کہ یہ ساخت واقعی کسی قدیم کشتی کے آثار ہیں یا قدرتی طور پر تشکیل پانے والی ارضیاتی ساخت۔

2026 میں شروع ہونے والے موجودہ تحقیقی منصوبے کی قیادت پروفیسر ڈاکٹر جینکر آتیلا کر رہے ہیں اور اس میں ترکیہ کی جامعات سمیت بین الاقوامی ماہرین شامل ہیں۔ تحقیق کا مقصد جدید جیو فزیکل سروے، ڈرلنگ، نمونوں اور زیرِ زمین جائزے کے ذریعے دوروپنار فارمیشن کی حقیقت جانچنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں