اسلام آباد (آواز نیوز):
پاکستان میں گزشتہ پانچ سال میں بے روزگار افراد کی تعداد میں 14 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ ماہانہ اوسط اجرت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ اعداد و شمار قومی لیبر فورس سروے 2024-25 میں پیش کیے گئے۔
سروے کے مطابق ملک میں بے روزگار افراد کی تعداد 45 لاکھ سے بڑھ کر 59 لاکھ ہو گئی ہے، جس میں 38 لاکھ مرد اور 21 لاکھ خواتین شامل ہیں۔ ملک میں مجموعی بے روزگاری کی شرح 6.3 فیصد سے بڑھ کر 6.9 فیصد ہو گئی ہے، مردوں میں 5.5 فیصد سے 5.9 فیصد اور خواتین میں 8.9 فیصد سے 9.7 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آبادی میں تیز رفتار اضافے پر قابو پانا ناگزیر ہے اور صوبوں کے ساتھ مل کر مؤثر حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔
ماہانہ اوسط اجرت 24,028 روپے سے بڑھ کر 39,042 روپے ہو گئی ہے، جس میں مردوں کی اجرت 24,643 روپے سے بڑھ کر 39,302 روپے اور خواتین کی اجرت 20,117 روپے سے بڑھ کر 37,337 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
ملک میں 10 سال سے زائد عمر کی لیبر فورس جو کام کے لیے دستیاب ہے، اس کی تعداد 7 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ کر 8 کروڑ 56 لاکھ ہو گئی ہے، جس میں ہر سال تقریباً 35 لاکھ افراد کا اضافہ ہوتا ہے۔
روزگار میں کمی زراعت اور ماہی گیری کے شعبوں میں ہوئی، جہاں شرح 37.4 فیصد سے کم ہو کر 35.1 فیصد ہو گئی، جبکہ مینوفیکچرنگ میں شرح 14.9 فیصد سے کم ہو کر 14.4 فیصد رہی۔
دوسری جانب تعمیری شعبے میں روزگار کی شرح 9.5 فیصد سے بڑھ کر 9.6 فیصد، ہول سیل و ریٹیل ٹریڈ میں 14.4 فیصد سے بڑھ کر 15.5 فیصد، ٹرانسپورٹ و مواصلات میں 6.2 فیصد سے 6.4 فیصد، سماجی خدمات میں 16 فیصد سے بڑھ کر 17.4 فیصد اور دیگر متفرق شعبوں میں 1.5 فیصد سے 1.6 فیصد ہو گئی۔









