کراچی:
پاکستان کی معروف گلوکارہ آئمہ بیگ ایک متنازع اور جذباتی انٹرویو کے باعث خبروں کی زینت بن گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ دماغ میں آنے والی دھن کو فوراً ریکارڈ کر لیتی ہیں، چاہے وہ کسی بھی وقت ہو۔
آئمہ بیگ نے انکشاف کیا کہ ایک دن فجر کی نماز کے بعد انہیں ایک خوبصورت دھن اور گانے کے بول ذہن میں آئے۔ اس دوران وہ اپنے والدہ کے جانے کے بعد اداس اور تنہا محسوس کر رہی تھیں اور والدہ کی یاد میں آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔
انہوں نے بتایا کہ تقریباً صبح 6 بجے انہیں والدہ کے لیے خاص دھن اور بول یاد آئے، جسے فوراً ریکارڈ کر لیا۔ آئمہ نے وضاحت کی کہ یہ گانا ان کی والدہ کے لیے مخصوص ہے، تاہم اس کے بول ابھی منظر عام پر نہیں لائے جائیں گے۔
مزید برآں، آئمہ بیگ نے اپنی نئی البم ’گڑیا’ کا ذکر کیا، جس کا نام والدہ کے لیے رکھا گیا کیونکہ خاندان اور دوست انہیں پیار سے گڑیا کہہ کر پکارتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میوزک کی دنیا میں قدم رکھنے کے دوران ان کی والدہ بیمار ہو گئی تھیں، اور وہ ان کے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزار سکیں، یہی وجہ ہے کہ یہ گانا ان کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔









