نیویارک (آواز نیوز)نیتن یاہو کے خلاف پابندیوں کی درخواست برطانیہ کے وکلا نے دائرکردی۔عرب تنظیم برائے انسانی حقوق نے فلسطینیوں کی نسل کشی کے ارتکاب پر مالی اور سفری پابندیوں کا مطالبہ کر دیا۔ ایک عرب انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیم نے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں “فلسطینیوں کے خلاف تشدد اور نسل کشی پر اکسانے” پر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف برطانیہ کی پابندیوں کے لیے درخواست دائر کی ہے۔برطانوی قانونی فرم نے عرب تنظیم برائے انسانی حقوق برطانیہ کی جانب سے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس میں درخواست دائر کی، جس میں اسرائیلی رہنما کے خلاف مالی اور سفری پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔اس عرضی میں دلیل دی گئی ہے کہ نیتن یاہو پر پابندیاں لگانے کی معقول بنیادیں ہیں جس میں ان کے سابقہ بیانات بھی شامل ہیں جو انہوں نے فلسطینی ریاست کو مسترد کرنے کے لیے دیے ہیں اورمذہبی طور پر نسل کشی پر مبنی بیان بازی جیسے کہ ‘عمالیق’ کی تباہی کے لیے بائبل کے حوالہ جات کا استعمال کیا ہے۔یہودی روایت میں “عمالیق” کو خالص برائی کی نمائندگی کرنے والے کے طور پر جانا جاتا ہے، لیکن اسے اسرائیلی انتہائی دائیں بازو سے فلسطینیوں کے قتل عام کو بیان کرنے اور جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر 2023 میں اسرائیل کی جانب سے نسل کشی کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے کم از کم 71,551 افراد ہلاک اور 171,372 زخمی ہو چکے ہیں۔پچھلے سال، اقوام متحدہ کی انکوائری میں پتا چلا کہ نیتن یاہو اور اسرائیل کی اعلیٰ قیادت کے بیانات جنگ کے دوران غزہ میں “نسل کشی کے لیے اکسانے” کے مترادف تھے۔اس عرضی میں مزید کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر “غزہ میں غیر قانونی فوجی کارروائیوں” کی ذمہ داری پر پابندیاں لگائی جانی چاہئیں کیونکہ وہ ملک کے اعلیٰ ترین عہدے دار ہیں۔









