اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اگلے ڈیڑھ ماہ کے لیے شرح سود 10.5 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جس کے بعد گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے پریس کانفرنس کے دوران باضابطہ اعلان کیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک نے بینکوں کے لیے نقد رقوم جمع کروانے کی شرح (کیش ریزرو ریشو) میں ایک فیصد کمی کا اعلان کرتے ہوئے اسے 6 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد مقرر کر دیا ہے، جس کا مقصد مالیاتی نظام میں لیکویڈیٹی کو بہتر بنانا ہے۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی کے مطابق دسمبر میں مہنگائی کی شرح 5.6 فیصد جبکہ بنیادی مہنگائی 7.4 فیصد پر مستحکم رہی۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ معاشی نمو کی رفتار توقعات سے بہتر رہی ہے اور مالی سال 2026ء میں معاشی نمو 4.75 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔
کمیٹی نے بتایا کہ درآمدات میں اضافے کے باعث تجارتی خسارہ بڑھا تاہم کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں رہا۔ دسمبر 2025ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 244 ملین ڈالر جبکہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں مجموعی خسارہ 1.2 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ اس خسارے کی بڑی وجوہات درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی ہیں، تاہم ترسیلات زر اور آئی سی ٹی برآمدات نے خسارے کو محدود رکھنے میں مدد دی۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر 16.1 ارب ڈالر کی سطح پر ہیں اور توقع ہے کہ جون تک یہ 18 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے۔ نجی شعبے کے قرضوں میں 578 ارب روپے کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو معاشی سرگرمیوں میں بہتری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی نے یہ بھی بتایا کہ ایف بی آر مقررہ ریونیو ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا اور 329 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا۔ رواں مالی سال افراط زر کی شرح 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے اندر رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔









