پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز ملتان سلطانز کی فروخت سے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے خزانے میں 2 ارب روپے سے زائد رقم آنے کا امکان ہے۔ اس حوالے سے بعض غیر ملکی پارٹیز کی جانب سے نیلامی سے قبل ہی گہری دلچسپی ظاہر کی جا رہی ہے، جبکہ سابقہ اونرز بھی ٹیم کو واپس حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اونرز اور پی سی بی کے درمیان اختلافات کے باعث ملتان سلطانز کے معاہدے میں توسیع نہیں کی گئی تھی۔ ابتدا میں بورڈ نے رواں برس پی ایس ایل کے 11ویں ایڈیشن میں فرنچائز کے معاملات خود سنبھالنے کا اعلان کیا تھا، تاہم دو نئی ٹیموں کی بھاری قیمت پر فروخت کے بعد پی سی بی نے اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا۔
یاد رہے کہ حال ہی میں حیدرآباد کی ٹیم ایک ارب 75 کروڑ روپے جبکہ سیالکوٹ کی ٹیم ایک ارب 85 کروڑ روپے سالانہ فیس کے عوض فروخت کی گئی تھیں۔ اسی تناظر میں گزشتہ دنوں ملتان سلطانز کی فروخت کے لیے بھی باضابطہ اشتہار جاری کیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق ٹیکنیکل بڈز جمع کرانے کی آخری تاریخ آج (جمعہ) ہے۔ فرنچائز حاصل کرنے کے لیے متعدد کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کی ہے، جن میں سے دو کمپنیاں 2 ارب روپے تک کی پیشکش دینے پر آمادہ ہیں، تاہم حتمی فیصلہ نیلامی کے عمل کے ذریعے کیا جائے گا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ملتان سلطانز کے سابقہ مالکان بھی ٹیم دوبارہ حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں اور وہ حال ہی میں دو نئی ٹیموں کی بڈنگ میں بھی شریک رہے تھے۔









