استنبول مذاکرات: ایران۔امریکا کشیدگی کم کرانے کے لیے پاکستان پل کا کردار ادا کرنے کو تیار

استنبول میں متوقع اہم سفارتی مذاکرات کے لیے وزرائے خارجہ کو دعوت دے دی گئی ہے، جبکہ ذرائع کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار پاکستان کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کا کوئی فوجی حل موجود نہیں، تمام معاملات مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں۔ پاکستان خطے میں امن و استحکام کو اپنی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح قرار دیتا ہے اور اسی تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان استنبول مذاکرات میں ایک ذمہ دار اور تعمیری شراکت دار کے طور پر شرکت کرے گا اور فریقین کو کشیدگی کم کرنے، اعتماد سازی کے اقدامات اپنانے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرے گا۔
پاکستان کا ماننا ہے کہ ایران۔امریکا کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پورے خطے کے امن، عالمی معیشت اور توانائی کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان دونوں ممالک کے ساتھ قریبی سفارتی روابط کے ذریعے غلط فہمیوں کے ازالے اور تناؤ میں کمی کے لیے پس پردہ اور اعلانیہ کردار ادا کرتا رہا ہے، جسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔
سفارتی ذرائع نے مزید بتایا کہ پاکستان کے ایران کے ساتھ برادرانہ جبکہ امریکا کے ساتھ طویل المدتی اور کثیرالجہتی تعلقات ہیں، جس کے باعث پاکستان دونوں فریقین کے لیے قابل اعتماد شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔ اسی سفارتی حیثیت کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان مذاکرات میں تعمیری تجاویز پیش کرے گا۔
پاکستان آئندہ دنوں میں دیگر علاقائی اور عالمی شراکت داروں سے بھی مشاورت جاری رکھے گا تاکہ استنبول مذاکرات کو بامقصد اور نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خبردار کر چکے ہیں کہ امریکی جنگی جہاز ایران کی جانب بڑھ رہے ہیں اور اگر معاہدہ نہ ہوا تو صورتحال سنگین ہو سکتی ہے۔ گزشتہ ماہ امریکا نے حکومت مخالف پرتشدد احتجاج کے دوران اپنے بحری جہاز ایران کے قریب تعینات کر دیے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں