القدس/دوحہ – غزہ میں جنگ بندی کے بعد حماس اور دیگر فلسطینی گروہوں کو غیر مسلح کرنے سے متعلق ایک نیا منصوبہ سامنے آیا ہے۔ یہ منصوبہ بورڈ آف پیس کے ڈائریکٹر جنرل نکولائے ملادینوف نے تیار کیا ہے۔
الجزیرہ کی ایک خصوصی رپورٹ میں شائع کی گئی منصوبے کی تفصیلات کے مطابق غزہ کو غیر مسلح کرنے کا عمل 8 ماہ میں مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا۔ یہ عمل اسرائیل کی جانب سے انسانی امداد، تعمیرِ نو اور فوجی انخلاء سے متعلق وعدوں کے ساتھ مشروط ہو گا۔
منصوبے کے اہم نکات
منصوبے میں درج ذیل اہم نکات شامل ہیں:
✅ فوری جنگ بندی: اسرائیل اور حماس فوری طور پر تمام فوجی کارروائیاں بند کریں گے۔
✅ انسانی امداد میں اضافہ: غزہ میں انسانی امداد اور تعمیراتی سامان کی فراہمی میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے گا۔
✅ فلسطینی قومی کمیٹی: غزہ کا انتظام ایک فلسطینی قومی کمیٹی کے حوالے کیا جائے گا۔
✅ متوازی عمل: غزہ کے غیر مسلح ہونے اور اسرائیلی فوج کے غزہ سے انخلاء کا عمل ایک ساتھ مرحلہ وار آگے بڑھے گا۔
مرحلہ وار طریقہ کار
ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ 8 ماہ پر محیط ہے جس میں:
- پہلے مرحلے میں جنگ بندی کو مستحکم کیا جائے گا اور انسانی امداد میں اضافہ کیا جائے گا۔
- درمیانی مراحل میں فلسطینی قومی کمیٹی کو غزہ کا کنٹرول سونپا جائے گا جبکہ حماس اور دیگر گروہوں کا غیر مسلح کرنے کا عمل شروع ہو گا۔
- آخری مرحلے میں اسرائیلی فوج کا مکمل انخلاء عمل میں لایا جائے گا اور غزہ میں تعمیرِ نو کا آغاز ہو گا۔
واضح رہے کہ نکولائے ملادینوف اقوام متحدہ میں مشرق وسطیٰ کے سابق خصوصی کوآرڈینیٹر ہیں اور انہیں خطے میں امن منصوبوں کی تیاری میں اہم حیثیت حاصل ہے۔
ابھی تک نہ تو اسرائیل نے اور نہ ہی حماس نے اس منصوبے پر کوئی سرکاری ردعمل دیا ہے۔









