پاکستان، امریکا-ایران جنگ میں ‘غیر متوقع اتحادی’ بن کر ابھرا: عالمی ثالث کا کردار ادا

اسلام آباد: امریکی میڈیا کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2026ء کی امریکا-ایران جنگ کے دوران پاکستان ایک “غیر متوقع مگر انتہائی اہم سفارتی اتحادی” کے طور پر عالمی منظر نامے پر ابھرا۔ رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے خطے کو ایک تباہ کن جنگ سے بچانے میں کلیدی اور فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

میڈیا رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ پاکستان نے نہ صرف ابتدائی جنگ بندی کی راہ ہموار کی بلکہ دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان براہِ راست اعلیٰ سطحی مذاکرات کی میزبانی کر کے عالمی امن کے لیے اپنی گہری وابستگی کا ثبوت دیا۔

رپورٹ کے مطابق، پاک فوج کے سربراہ، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنی غیر متزلزل سفارتی حکمتِ عملی سے ابتدائی جنگ بندی کرانے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ ان کی کوششوں سے اس کشیدگی میں کمی آئی جس نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔

مزید برآں، یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ اسلام آباد نے 1979ء کے انقلابِ ایران کے بعد پہلی بار امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات کی میزبانی کا تاریخی کارنامہ انجام دیا۔ یہ مذاکرات، جو پاکستان کی غیر جانبدارانہ اور فعال سفارت کاری کے بغیر ممکن نہیں تھے، بالآخر مستقل جنگ بندی اور تنازعے کے سفارتی حل کی بنیاد بنے۔ امریکی میڈیا نے پاکستان کے اس اقدام کو “ایک شاندار سفارتی کامیابی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے اپنے جغرافیائی اور سیاسی محلِ وقوع کو عالمی امن کے لیے استعمال کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں