اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک بھر کے چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے لیے ایک اہم اور طویل عرصے سے زیرِ التوا فکس ٹیکس اسکیم لانے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ یہ اسکیم انجمنِ تاجران کی مشاورت اور ان کے مطالبے پر لائی جا رہی ہے۔
بلال اظہر کیانی نے اسکیم کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس آسان اسکیم کا اطلاق ان تمام دکانداروں پر ہوگا جن کی سالانہ فروخت 20 کروڑ روپے یا اس سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دکانداروں کو ان کی مجموعی فروخت پر صرف ایک فیصد فکس ٹیکس ادا کرنا ہوگا، اور اگر ان کا ود ہولڈنگ ٹیکس پہلے سے کٹا ہوا ہے تو وہ اس میں ایڈجسٹ ہو جائے گا۔
وزیر مملکت نے واضح کیا کہ اس اسکیم کے تحت کم از کم 25 ہزار روپے ٹیکس جمع کروانا لازمی ہوگا، جبکہ زیادہ ٹرن اوور کی صورت میں اسی ایک فیصد کے حساب سے ٹیکس لاگو ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اس اسکیم کے لیے صرف ایک صفحے کا سادہ فارم ڈیزائن کیا گیا ہے جس پر دکاندار اپنے مال کی فروخت درج کریں گے۔ اس اسکیم میں شامل ہونے والے ہر دکاندار کو ایف بی آر کی جانب سے ایک خصوصی پلیٹ جاری کی جائے گی جس پر دکاندار اور دکان کا نام درج ہوگا۔ اس اسکیم کی خاص بات یہ ہے کہ نان فائلر اور فائلر دونوں اس میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں، اور اس میں شامل ہونے والے تاجروں کو پوائنٹ آف سیل (POS) کی شرط سے بھی استثنیٰ مل جائے گا۔
بلال اظہر کیانی نے یہ بھی کہا کہ اسکیم سے مستفید ہونے کے لیے ٹیکس کی ادائیگی کم از کم پچھلے سال کے برابر ہونی چاہیے۔
اس موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ معاشی استحکام کا قائم رہنا بہت ضروری ہے اور ہمارے ملک کی آمدنی کو ایک خاص شرح پر لے جانا بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات بے تحاشہ کی گئی ہیں لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ٹیکس کی شرح بڑھانے کے بجائے اسے کم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام 30 سے 40 لاکھ چھوٹے دکانداروں کے لیے ہے جو ملکی وسائل میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ “یہ خوش آئند ہے کہ جو طبقات اب تک کنٹریبیوشن نہیں کر رہے تھے، وہ اب خود کو پیش کر رہے ہیں اور ہم ان کے شکر گزار ہیں۔”









