زوہران ممدانی نے عید الاضحی دو کمیونٹیز کے ساتھ منائی۔ ایک افریقی دوسری بنگلہ دیشی کمیونٹی
نیویارک( آواز نیوز) امریکی ریاست نیو یارک کے میئر زہران ممدانی نے برونکس میں افریقی مسلمان برادری کے ہمراہ عید کی نماز ادا کی۔ عید کے موقع پر انھوں نے جو لباس پہن رکھا تھا، اس پر روایتی میڈیا سے لے کر سوشل میڈیا تک بات کی جا رہی ہے۔بعد ازاں برونکس میں بنگلہ دیشی کمیونٹی سے خطاب بھی کیا۔ جہاں انہوں نے عید الاضحی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ قربانی بوجھ نہیں بلکہ خدا کی رضا حاصل کرنے کا موقع ہے۔ مئیر ممدانی نے اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سورہ آل عمران کی اس آیت کا حوالہ دیا۔ (ترجمہ)اللہ کی رسی کو مظبوطی سے تھامے رکھو اور آپس میں تفرقے میں نہ پڑو”
تصاویر اور ویڈیوز فراہم کرنے والی ویب سائٹ گیٹی امیجز نے زہران ممدانی کے عید کے اجتماع میں شریک ہونے، نماز ادا کرنے اور لوگوں سے ملنے کی تصاویر شائع کیں۔
قریب سے لی گئی تصاویر دیکھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے زہران ممدانی کوئی ٹی شرٹ پہن کر ہی عید کی نماز پڑھنے چلے گئے۔ لیکن پھر دور سے لی گئی تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تو گھٹنوں تک آنے والا کُرتا یا اسی طرز کی کوئی قیمض تھی اور نیچے زہران ممدانی نے پینٹ پہن رکھی تھی۔
لیکن وہ کوئی عام کُرتا نہیں تھا، روایت کے بیان سے لے کر کھیل کے میدان اور آسمان پر اڑان تک، اس میں ایک جہان نظر آتا تھا۔ تاہم یہ یکجہتی زہران ممدانی کے لباس پر موجود علامتوں میں ہرگز نہ تھی۔
زہران ممدانی کے کُرتے پر ایک فضائی کمپنی، ایک فٹ بال کلب، اور جوتے بنانے والی ایک کمپنی کی علامتیں موجود تھیں۔ اور جو تنوع ان علامتوں میں تھا وہی ان سے وابستہ جغرافیے میں بھی تھا۔ عید کے اس اجتماع میں زہران ممدانی کا لباس منفرد اس وجہ سے بھی تھا کہ وہاں موجود دیگر افراد نے عربی طرز کا وہ لباس پہن رکھا تھا جو عموماً ٹخنوں تک آتا ہے۔










