نیویارک ( رپورٹ: محمد فرخ) ایک وفاقی کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو اسائلم کیسز پر ازسرنو عملدرآمد کا حکم دیا ہے تاکہ غیر معینہ تاخیر سے دوچار کیسز جلد ازجلد نمٹائے جائیں۔ ریاست روڈ آئیلنڈ کے یوایس ڈسٹرکٹ کے چیف جسٹس نے صدر ٹرمپ کی متعدد غیر انسانی امیگریشن پالیسیوں پر سخت ایکشن لیتے ہوئے انہیں ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔ صدر کی سخت ترین امیگریشن اقدام کی وجہ سے 39 ممالک کے تارکین وطن کے اسائلم کیسز پر ورک پرمٹ گرین کارڈز اور سٹیزن شپ کا حصول مشکل تر بنادیا گیا ہے۔جج جان میکونل کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں نے 39 ممالک کے باشندوں کو طویل امیگریشن الجھنوں میں ڈال دیاہے۔ ان میں ایشین، افریقی اور لاطینی امریکی ممالک کے لوگ شامل ہیں۔ وفاقی جج کے فیصلہ سے لاکھوں افراد کو ریلیف مل سکتا ہے۔ تاہم اس حکم پر عملدرآمد کے بارے میں امیگریشن وکلاء فی الوقت کچھ بتانے سے گریزاں ہیں۔جج کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں تارکین وطن نے تمام قانونی تقاضے پورے کئے مگر صدر ٹرمپ کے اقدامات کے باعث وہ طویل قانونی پیچیدگیوں کا شکار بن کر رہ گئے ہیں. سابق صدر باراک اوبامہ کے نامزد کردہ جج میکونل کا کہنا ہے کہ امریکی صدر نے کسی قانونی اور جائز اتھارٹی کے بغیر تارکین وطن کے کیسز روک رکھے ہیں جو قطعی غیر اخلاقی اور امریکی اقدار کے منافی ہے۔









