‘کیوبا اگلا ہدف ہے’، ٹرمپ،عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک حالیہ بیان نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ میامی میں ایک سرمایہ کاری فورم کے دوران ٹرمپ نے کہا ہے کہ کیوبا اگلا ہدف ہے۔

اپنی تقریر میں ٹرمپ نے کہا:

“میں نے ایک طاقتور فوج بنائی، لیکن کبھی کبھی اسے استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اور ویسے، کیوبا اگلا ہے – مگر یہ بات بھول جائیں۔”

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا پہلے ہی ایران اور وینزویلا میں اپنی کارروائیوں کو کامیاب قرار دے رہا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کیوبا کے حوالے سے ان کا اگلا قدم کیا ہو گا، جس سے صورتِ حال مزید غیر یقینی ہو گئی ہے۔

ٹرمپ کا یہ بیان کیوبا کے ساتھ امریکہ کے تاریخی کشیدہ تعلقات کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے۔ کیوبا پر امریکہ کی پابندیاں برسوں سے عائد ہیں، اور ٹرمپ کے اس بیان کو مبصرین امریکہ کے لاطینی امریکہ میں بڑھتے ہوئے فوجی اثر و رسوخ کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے بیانات علاقائی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ابھی تک کیوبا یا دیگر لاطینی امریکی ممالک کی جانب سے اس بیان پر سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر کی جانب سے کیوبا کے حوالے سے اس سے قبل بھی سخت موقف اختیار کیا جا چکا ہے، لیکن ‘اگلا ہدف’ جیسی اصطلاحات کے استعمال نے عالمی حلقوں میں تشویش کو جنم دے دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں