ٹرمپ کی سعودی عرب سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی اپیل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت کی اپیل کر دی ہے۔ بلوم برگ کے مطابق صدر ٹرمپ نے میامی میں منعقدہ فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو (FII) سے خطاب کے دوران کہا کہ مشرقِ وسطیٰ تبدیلی کے دہانے پر ہے اور ایران کے خلاف جنگ کے بعد خطے میں معاشی مواقع پیدا ہوں گے۔

اپنے خطاب میں ٹرمپ نے کہا:

“مشرقِ وسطیٰ تبدیل ہو جائے گا، اور مجھے نہیں لگتا کہ خطے کا مستقبل کبھی اتنا روشن رہا ہو۔ ہم نے ابراہیمی معاہدے کیے تھے۔ مجھے امید ہے کہ آپ آخر کار ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو جائیں گے۔”

ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ماضی میں ان معاہدوں میں شمولیت سے گریزاں تھے، لیکن اب وقت آگیا ہے۔ انہوں نے کہا:

“ہم نے انہیں (ایران کو) باہر کر دیا ہے، اور وہ مکمل طور پر باہر ہو چکے ہیں۔ اب ہمیں ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونا ہوگا۔”

ایران کے خلاف جنگ پر تبصرہ

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف جنگ خطے کو ایٹمی خطرے سے آزاد کر دے گی۔ انہوں نے کہا:

“ہم پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ بالآخر ایرانی دہشت گردی اور ایٹمی بلیک میل سے آزاد ہو جائے۔ 47 سال سے ایران مشرقِ وسطیٰ کا بدمعاش رہا ہے، لیکن وہ اب بدمعاش نہیں رہے۔ وہ بھاگ رہے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف کامیاب فوجی مہم کے بعد خطے میں امن اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہو گیا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کو ایران کی طرف سے متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا رہا ہے، اور امریکی کارروائیوں نے ان خطرات کو ختم کر دیا ہے۔

ابراہیمی معاہدے کیا ہیں؟

ابراہیمی معاہدے 2020ء میں ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ کے دوران بروکر کیے گئے معاہدوں کا ایک سلسلہ ہیں جنہوں نے اسرائیل اور متعدد عرب ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے کی راہ ہموار کی۔

ان معاہدوں پر دستخط کرنے والے پہلے ممالک متحدہ عرب امارات اور بحرین تھے جنہوں نے 15 ستمبر 2020ء کو واشنگٹن میں باقاعدہ دستخط کیے۔ اس کے بعد سوڈان (اکتوبر 2020ء) اور مراکش (دسمبر 2020ء) نے بھی ان معاہدوں میں شمولیت اختیار کی۔

نومبر 2025ء میں قزاقستان نے بھی ان معاہدوں میں شمولیت کا اعلان کیا، جو ٹرمپ کی دوسری انتظامیہ کے دوران پہلا نیا ملک بن گیا۔

ان معاہدوں کا نام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام پر رکھا گیا، جو تینوں ابراہیمی مذاہب یعنی یہودیت، عیسائیت اور اسلام میں مشترکہ شخصیت ہیں۔ یہ معاہدے 1979ء کے مصر-اسرائیل امن معاہدے اور 1994ء کے اردن-اسرائیل معاہدے کے بعد عرب-اسرائیل تعلقات میں پہلی بڑی پیش رفت تھے۔

سعودی عرب کی شمولیت کیوں اہم ہے؟

سعودی عرب کو ان معاہدوں میں شامل کرنا امریکہ کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ سعودی عرب جزیرہ نما عرب کا سب سے بڑا اور بااثر ملک ہے۔ تاہم غزہ جنگ کے بعد مسلم ممالک میں اسرائیل مخالف جذبات شدت اختیار کر چکے ہیں۔ سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کیے بغیر کوئی معاہدہ ممکن نہیں۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتِ حال میں سعودی عرب کے لیے ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت کا اعلان کرنا سیاسی طور پر انتہائی مشکل ہے، خاص طور پر جب غزہ میں جاری تنازع کے باعث مسلم دنیا میں اسرائیل کے خلاف غم و غصہ عروج پر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں