امریکی اور اسرائیلی فوج میں ایران پر حملوں کے اہداف کی تقسیم

واشنگٹن/تل ابیب – امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملوں کے اہداف کی تقسیم کر لی ہے، جس میں ایرانی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری اسرائیل کو سونپی گئی۔ اس حوالے سے اسرائیل نے ایران کے سپریم لیڈر سمیت 250 سے زائد سینئر افسران کو شہید کر دیا۔

سیئٹل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور اسرائیلی فوجی کمانڈروں کے درمیان ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ کی منصوبہ بندی کے دوران اہداف کی تقسیم پر تفصیلی مشاورت ہوئی۔ طے پایا کہ ایرانی میزائل بیٹریوں، فوجی اڈوں اور جوہری تنصیبات سمیت متعدد اہداف پر مشترکہ کارروائیاں کی جائیں گی، تاہم ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کا “پرتشدد مشن” اسرائیل کے حصے میں آیا ۔

اسرائیلی سکیورٹی افسران کے مطابق اسرائیل نے یہ ذمہ داری اپنے تجربے اور مہارت کی بنیاد پر حاصل کی۔ ایک اعلیٰ اسرائیلی سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ “انہیں نشانہ بنانے کی ضرورت تھی، اور ہم یہ کر سکتے تھے” ۔

ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق جغرافیائی طور پر بھی اہداف کی تقسیم کی گئی۔ اسرائیلی فضائیہ نے مغربی اور وسطی ایران میں ایرانی بیلسٹک میزائل لانچرز اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، کیونکہ ایران ان علاقوں سے اسرائیل پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل فائر کرتا ہے۔ جبکہ امریکی فوج نے جنوبی ایران میں میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا، جہاں سے ایران خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے کرتا ہے ۔

اسرائیلی فوج کے مطابق ایران کی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکی-اسرائیلی مشترکہ حملے میں شہید ہوئے ۔ اس حملے میں ایران کے دفاعی کونسل کے سربراہ، اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے کمانڈر، مسلح افواج کے کمانڈر، وزیر دفاع اور کئی دیگر اعلیٰ افسران بھی شہید ہوئے ۔

اس کے علاوہ اسرائیل نے حالیہ ہفتوں میں ایران کے قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی، باسج فورس کے کمانڈر غلامرضا سلیمانی اور انٹیلی جنس منداری اسماعیل خطیب کو بھی شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔

اسرائیلی فوج کے مطابق اب تک 250 سے زائد “سینئر ایرانی افسران” کو نشانہ بنایا جا چکا ہے ۔

امریکی اخبار کے مطابق اسرائیل نے ایرانی رہنماؤں کے خلاف یہ کارروائیاں ایک نئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے پلیٹ فارم کے ذریعے ممکن بنائیں، جو ایران سے حاصل کردہ ڈیٹا کو اسکین کرکے رہنماؤں کے ٹھکانوں اور سرگرمیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے ۔

واضح رہے کہ 28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی اس جنگ میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف ایران کی جانب سے خلیجی ممالک اور اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں، جبکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں