پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک اہم سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے امریکا اور ایران کے ساتھ ایک جامع جنگ بندی فریم ورک شیئر کر دیا ہے۔
برطانوی خبر ایجنسی Reuters کے مطابق اس فریم ورک کو دو مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی جبکہ دوسرے مرحلے میں ایک جامع اور طویل مدتی معاہدہ شامل ہے، جس کا مقصد خطے میں پائیدار امن قائم کرنا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کو یہ منصوبہ موصول ہو چکا ہے، جس میں جارحیت کے خاتمے اور مذاکرات کے آغاز پر زور دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آج اس حوالے سے اہم پیش رفت متوقع ہے اور ابتدائی معاہدے کو یادداشتِ مفاہمت کی شکل دی جا سکتی ہے۔
سفارتی کوششوں کے دوران پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے اہم کردار ادا کیا اور وہ رات بھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی تجویز انہیں موصول ہو چکی ہے اور اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی فیصلے کے لیے کسی قسم کی ڈیڈ لائن یا دباؤ قبول نہیں کرے گا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دی گئی ڈیڈ لائن میں مزید 24 گھنٹے کی توسیع کر دی ہے۔ نئی ڈیڈ لائن کے مطابق معاہدے کا وقت منگل رات 8 بجے (ایسٹرن ٹائم) مقرر کیا گیا ہے، جو پاکستان میں بدھ کی صبح 5 بجے کے برابر بنتا ہے۔
ایران نے امریکی الٹی میٹم مسترد کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان Esmail Baghaei نے کہا ہے کہ ایران اپنے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور سویلین انفراسٹرکچر، خصوصاً بجلی گھروں پر حملوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اس سے متاثر ہوگا۔









