بالی ووڈ اداکارہ جھانوی کپور نے ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ انہوں نے اسکول کے دنوں میں آئی ٹی کلاس کے دوران اپنی جعلی اور فحش تصاویر ایک ویب سائٹ پر دیکھیں، جو مکمل طور پر ڈیپ فیک مواد تھا اور جس نے انہیں شدید ذہنی صدمے سے دوچار کیا۔
اداکارہ نے کہا کہ اس تجربے نے انہیں کم عمری میں ہی شہرت کے تاریک پہلوؤں سے روشناس کرا دیا اور انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا عوامی شخصیت ہونے کی قیمت ایسے غیر اخلاقی مواد کو خاموشی سے برداشت کرنا ہے؟
جھانوی کپور نے مزید بتایا کہ آج بھی ان کی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں جنہیں حقیقی سمجھ کر پیش کیا جاتا ہے، اور بعض اوقات مستند نیوز پلیٹ فارمز بھی انہیں شیئر کر دیتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسا جعلی مواد پیشہ ورانہ زندگی کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے کیونکہ مستقبل میں ہدایت کار اسے بنیاد بنا کر دباؤ کا ذریعہ بنا سکتے ہیں۔
اداکارہ نے واضح کیا کہ یہ مسئلہ صرف ان تک محدود نہیں بلکہ دیگر شخصیات بھی اس کا شکار ہیں، اور جدید ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ڈیجیٹل رضامندی کے حوالے سے واضح قانونی اور اخلاقی حدود مقرر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔









